خیبرپختونخوا حکومت نے 1 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں فراہمی بڑھا کر آٹے کی دستیابی بہتر بنانے اور قیمتوں میں استحکام لانے کی کوشش

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں آٹے کی دستیابی بہتر بنانے اور قیمتوں میں استحکام کے لیے 1 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس فیصلے کا مقصد اوپن مارکیٹ میں سپلائی کو بڑھانا، ذخیرہ اندوزی کے امکانات کم کرنا اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے، تاکہ روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت یعنی آٹے کی فراہمی میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔
محکمہ خوراک کے حکام کے مطابق گندم کی ریلیز مرحلہ وار انداز میں کی جائے گی اور اس عمل میں صوبے کے مختلف اضلاع کو ضرورت اور طلب کے مطابق کوٹہ فراہم کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریلیز ہونے والی گندم کی تقسیم کے لیے متعلقہ انتظامیہ اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے مانیٹرنگ نظام کو فعال رکھا جائے گا، تاکہ گندم کی ترسیل اور فلور ملز/ڈیلرز تک رسائی شفاف انداز میں ممکن ہو سکے۔ مزید بتایا گیا کہ گندم کے اجرا سے مارکیٹ میں آٹے کی پیداوار اور دستیابی میں اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
بازار میں آٹے کی قیمتیں عمومی طور پر سپلائی، طلب اور نقل و حمل کے اخراجات سے متاثر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر سرکاری سطح پر گندم بروقت اور مناسب مقدار میں مارکیٹ میں آتی رہے تو قیمتوں میں اچانک اضافے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام کے مطلوبہ نتائج اس وقت سامنے آئیں گے جب گندم کی ریلیز کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی اور مارکیٹ نگرانی بھی مستقل بنیادوں پر جاری رہے۔
صوبائی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ گندم کی ریلیز کے عمل میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ضلعی سطح پر رسد کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات دی جا رہی ہیں۔ سرکاری حلقوں کے مطابق عوامی ریلیف کے تناظر میں یہ فیصلہ اہم ہے کیونکہ آٹا گھریلو اخراجات میں بنیادی حصہ رکھتا ہے، اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست عام شہری کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
دوسری جانب عوامی و تاجر حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گندم کی ریلیز کا شیڈول، اضلاع کے لیے مختص کوٹہ اور تقسیم کے طریقہ کار کی تفصیلات واضح کی جائیں، تاکہ افواہوں کی حوصلہ شکنی ہو اور مارکیٹ میں اعتماد بڑھے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی میں اضافہ مستقل رہا تو نہ صرف دستیابی بہتر ہوگی بلکہ قیمتیں بھی قابو میں رہیں گی۔


