اسلام آباد میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبہ منظور، ڈوٹارہ ڈیم دو سال میں مکمل ہوگا
وفاقی دارالحکومت کو پانی کی قلت سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر، وزیرِ داخلہ محسن نقوی
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ ڈوٹارہ ڈیم کو آئندہ دو برس کے اندر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں پانی کی طلب میں مسلسل اضافے اور زیرِ زمین آبی ذخائر میں کمی کے باعث سنگین صورتحال پیدا ہو رہی تھی، جس کے پیش نظر ہنگامی منصوبہ تشکیل دیا گیا۔ ڈوٹارہ ڈیم کی تکمیل سے نہ صرف دارالحکومت میں پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور شفاف انداز میں تمام مراحل مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی جیسے قیمتی قدرتی وسیلے کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے اور ضیاع کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈوٹارہ ڈیم منصوبہ اسلام آباد کے شہریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور اس کی بروقت تکمیل حکومت کی سنجیدگی کا مظہر ہے۔ محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پانی کے بحران کے مستقل حل کے لیے مزید منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں دارالحکومت کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔




