روس کا یوکرین پر ایک اور میزائل حملہ، ’’اوریشنک‘‘ بیلسٹک میزائل سے لویو ریجن کو نشانہ بنایا گیا ی
یورپ کو نفسیاتی پیغام؟ روس کا دوسرا ’’اوریشنک‘‘ میزائل حملہ، مغربی ممالک میں تشویش کی لہر

روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا دوسرا ’’اوریشنک‘‘ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل فائر کر دیا ہے، جس کا ہدف مغربی یوکرین کا حساس علاقہ لویو ریجن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے میں اہم تنصیبات کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق میزائل حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپی ممالک میں یوکرین میں فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔ عسکری ماہرین اس کارروائی کو محض ایک فوجی حملہ نہیں بلکہ مغربی دنیا کے لیے ایک ’’نفسیاتی انتباہ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’اوریشنک‘‘ میزائل کی دوبارہ تعیناتی روس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے جس کے ذریعے وہ نیٹو اور یورپی اتحادیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کیا گیا تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس میزائل کی رینج اور درستگی اسے ایک مؤثر اسٹریٹجک ہتھیار بناتی ہے۔
یوکرین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حملے کے فوری بعد فضائی دفاعی نظام کو الرٹ کر دیا گیا جبکہ سویلین آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق روس کی جانب سے لویو جیسے مغربی علاقے کو نشانہ بنانا خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ علاقہ یورپی سرحدوں کے قریب واقع ہے اور اسے مغربی امدادی راستوں کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس حملے کو ایک واضح سفارتی اور عسکری پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین اور نیٹو کی جانب سے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ متعدد مغربی رہنماؤں نے روسی کارروائی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب روسی حکام نے تاحال اس حملے پر تفصیلی مؤقف جاری نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حملے کے اثرات سفارتی سطح پر مزید واضح ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ کے مستقبل اور یورپی سلامتی سے متعلق اہم فیصلے زیر غور ہیں۔



