بھارت کو ایک اور محاذ پر شکست کا سامنا

پاکستان نے بھارت کو عسکری محاذ پر شکست دینے کے بعد اب بڑی سبک رفتاری سے چین کے ساتھ مل کر اسے باقی محاذوں پر شکست دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اس پر تیزی سے عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ اب باری ہے پاکستان میں انڈین فنڈڈ دہشت گردی کے خاتمے کی۔ انڈیا جو ایک طرف پاکستان سے ملحقہ ایرانی علاقوں اور دوسری طرف افغانستان بارڈر اور سرزمین کا استعمال کر کے بلوچستان اور کے پی کے اندر دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث تھا اب اس سلسلے کے خاتمے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ پاکستانی اور چینی قیادت سی پیک ون اور سی پیک ٹو کی تکمیل کے لیے مکمل طور پر کوشاں ہے۔ اس حوالے سے چین افغانستان کو بھی سی ٹو یا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں افغانستان کو بھی پارٹنر بنانا چاہتا ہے۔ چین پاکستان میں افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردانہ کاروائیوں کو مکمل طور پر روکنا چاہتا ہے۔ چین نے صاف الفاظ میں یہ بتا دیا ہے کہ افغان سرزمین اب پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ یہ خبر بھارت کے لیے ایک شکست کے بعد ایک اور شکست سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ اس لیے موثر انداز میں یہ کتا مار مہم شروع کی گئی ہے۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی آنے والے کچھ عرصے میں ماضی کا حصہ ہوں گے ان شاءاللہ۔ اس مقصد کے لیے پہلے 19 اپریل کو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانی قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کیا جس کے بعد 21 اپریل کو پاکستان چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی چین کے دارالحکومت میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نےجہاں ایک طرف اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا وہیں آسام اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی بہتری کے حوالے سے ٹھوس اور فوری اقدامات دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے سب سے بڑی خبر یہ رہی کہ دونوں پڑوسی ممالک یعنی پاکستان اور افغانستان میں اپنے سفارتی تعلق کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو گزشتہ چار سال سے سرد روی کا شکار ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی طرف سفرا کو تعینات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔اس سے پہلے دونوں اطراف سے نائبین یہ معاملات دیکھتے تھے جبکہ دونوں ممالک یعنی افغانستان اور پاکستان اپنے سفیر واپس بلوا لیے تھے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور تیزی سے بہتر ہوتے تعلقات کا چہرہ چین کے سر جاتا ہے۔ جو کہ دونوں اطراف کے لیے گارنٹر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ خبر بھارت کے لیے ایک شکست کے بعد ایک اور شکست سے کسی بھی صورت کم نہیں ہے۔ انڈیا کی افغانستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ٹیرر کیمپوں اور پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کے لیے بلینز اف ڈالرز کی انویسٹمنٹ ڈوبنے کا وقت ہوا جاتا ہے ان شاءاللہ۔ بھارت کی برسوں سے کی گئی یہ سرمایہ کاری اور اس کے نتیجے میں بننے والا دہشت گردی کا ٹائٹینک چین نامی آ یس برگ ٹکرا کر تیزی سے ڈوب رہا ہے اور آنے والے چند ہفتوں یا مہینوں میں یہ مکمل طور پر ٹوب جائے گا۔افغانستان میں چلنے والے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی ٹیرر کیمپ سے سی پیک پروجیکٹ چینی انجینیئرز اور پاکستان کے سیکیورٹی اور سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی اس لیے چین نے ایک طرف افغانستان کو سی پیک میں شامل کر کے اس کے ساتھ پارٹنرشپ کی تو دوسری طرف اسے صاف الفاظ ہیں یہ بتا دیا کہ افغان سرزمین اب پاکستان میں کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور یہ چین نے بڑا واضح بولا۔ دوسری طرف ایران نے بھی پاک ایران بارڈر کو محفوظ بنانے اور کراس بارڈر ٹیررزم کو روکنے کے لیے پاکستان اور ایران کے 300 کلومیٹر پر محیط باڈر پر تقریبا چار میٹر اونچی کنکریٹ کی دیوار بنانے کے کام کا آغاز کر دیا ہے جو کہ بھارت کے لیے ایک بہت بری خبر ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں کروائی جانے والی دہشت گردی کا باب اب بند ہونے جا رہا ہے۔ ملک کے اندر بھی پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے خلاف ایک آپریشن کا اغاز کر دیا ہے جس کے بعد دہشت گرد اب اپنی زندگیوں کی بھیک مانگتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جس موثر انداز میں یہ کتا مار مہم شروع کی گئی ہے اس سے ایک بات واضح ہے کہ ہی ایل اے اور ٹی ٹی پی آنے والے کچھ عرصہ میں ماضی کا حصہ بن جائیں گے ان شاءاللہ۔ملک میں 25 سال سے جاری دہشت گردی اب اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے اور یہ ان شہداء کے خون اور غازیوں کے عزم و ہمت کا نتیجہ ہے جنہوں نے اس وطن عزیز کے لیے قربانیاں دیں۔ 10 مئی کے بعد پاکستان نے دنیا میں اپنے آپ کو ایک مضبوط دفاعی اور عسکری صلاحیت کے طور پر منوایا اور اب پاکستان طاقت کے طور پر ابھرنے گوشت تیار ہے ان شاءاللہ اور جیسے مجاہد اسلام جنرل حمید گل رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا کے فیصلے پاکستان سے ہوا کریں گے۔ پاکستان پائندہ باد۔


