وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ مالی اور جانی تحفظ فراہم کریں‘ ظفر علی جعفری
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن مالی اور جانی تحفظ فراہم کریں یہ بات کراچی سندھ کی مشہور و معروف سماجی رہنما شخصیت ظفر علی جعفری نے صحافیوں سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہی جناب ظفرعلی جعفری نے بتایا کہ انہوں نے جنوری 2021 میں فش فارم کے کاروبار کرنے کےلئے ایک 8ایکٹررقبہ کا پلاٹ جس کاسروے نمبر 310 کا چوکڑی نمبر 3اور 4 بمقام دہیہ گجو ٹپو گجو تحصیل میرپور ساکرو ضلع ٹھٹھہ سندھ کیلئے خریداری کا معاہدہ جناب محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم ) رہائشی میمن محلہ گجو دہیہ گجو ٹپو گجو تحصیل میرپور ساکرو ضلع ٹھٹھہ سندھ اور ان کی والدہ ، اوردو ہمشیروں کی رضامندی جو کہ اللہ بچایو ( مرحوم ) کے قانونی شرعی ورثہ ہیں سے علاقے کے اسٹیٹ بروکر اور علاقے کے معتبر اور معزز شخصیات بطور گواہان کی موجودگی میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد ایک سیل ایگرئمنٹ بنایا اور اس سیل ایگرئمنٹ کی شق کے مطابق کچھ رقم کو (خریدار )ظفر علی جعفری (فروخت کنندہ )محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) کو تب دیں گے جب اس مندرجہ بالا اراضی زمین کو (فروخت کنندہ) محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) (خریدار )ظفر علی جعفری کے نام رجسٹری کھاتہ فارم سیون میں اندراج رجسٹرار متعلقہ دفتر سے کرواکر دیں گے تو اس وقت بقایا رقم کی ادائیگی کی جائے گی اور دونوںں فریقین (فروخت کنندہ) محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) اور (خریدار ) ظفر علی جعفری نے اپنی رضامندی سے علاقے کے اسٹیٹ بروکر اور علاقے کے معتبر شخصیات بطور گواہان کی موجودگی میں اس مندرجہ بالا اراضی زمین کو بحالت خالی اراضی زمین کو پرامن طور پر (خریدار) ظفر علی جعفری کے حوالے کی کہ اب اس زمین پر (خریدار) ظفر علی جعفری اپنے کاروبار کیلئے بطور فش فارم کو بنا سکتے ہیں اوراس کے بعد ہم نے 2021 میں ہی لاکھوں روپے خرچ کر کے اس اراضی پر فش فارم بنایااوراپنا فش فارم کا کاروبار کرنے لگے ، اور ہم گزشتہ پانچ سالوں سے فروخت کنندہ جناب محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) کو کہتے رہتے تھے کہ ہمیں اراضی زمین کے دستاویزات رجسٹری کرواکر دیں تو (فروخت کنندہ) محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) ٹال مٹول کرتا رہا اور مختلف بہانے بناتا رہا اور گزشتہ پانچ سالوں سے ہمیں دستاویزات اور متعلقہ ڈپارٹمنٹ سے رجسٹری کرواکر نہیں دی اور گزشتہ دو ماہ سےایک دم اکتوبر 2024 کو ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ (فروخت کنندہ ) محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم)مختلف خریداروں کو اراضی زمین کو فروخت کرنے کےلئے لا رہے ہیں تو ہم نے ان سے رابطہ کیا اس پر محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم)نے کہا کہ ہم اس اراضی کو نئی موجودہ ویلیو کے حساب سے فروخت کریں گے اور اگر آپکو زمین رکھنی ہے تونئی ویلیو کے حساب سے رقم کی ادائیگی کرو اور کھاتہ رجسٹر ی لو اس کے بعد ہم نے قانونی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے 8 اکتوبر 2024 کو اخبار میں اطلاع عام میں اشتہار مشتہر کروایا تا کہ (فروخت کنندہ ) محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم)اور خریداروں کو متنبہ کیا جاسکیں لیکن انہوں نے ایک نا سنی اور کچھ عرصہ بعد ہی (فروخت کنندہ )محمدبشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) اور اس کے رشتہ دار جو کہ گورٹئمنٹ ملازم ہے خادم حسین ولد شبیر میمن 10 سے 15 نامعلوم افراد ہمارے فش فارم پر حملہ کرتے ہیں اور ہمارے چوکیدار علی نواز جو کے اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پزیر ہیں ہماری اراضی کو خالی کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے ہم نے جب (فروخت کنندہ )محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) سے رابطہ کیا تو اس پر (فروخت کنندہ )محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم) ہمیں بولنے لگے کہ اب یہ زمین میں نے کسی اور کو فروخت کر رہا ہوں نئی قیمت پر اب 2021 والی رقم پر نہیں دوں گا اور اب اس اراضی کو موجودہ مارکیٹ کی ویلیو کے حساب سے رقم وصول کر کے کھاتہ رجسٹری کرواکر دوں گا ، بصورت دیگر یہ اراضی زمین کسی اور کو سیل کروں گا تم ہماراکچھ نہیں بگاڑ سکتے تم اور تمارے بیٹوں نے کچھ کیا توجان سے مار دیں گے اور اب تم اور تمارے بیٹے اس پورے علاقے میں نظر نہیں آنا ہماری پونچھ اوپر تک ہیں یہاں کے تھانے بھی ہمارے ساتھ ہیں اور ہم کراچی تک تمارے گھر کو جانتے ہیں ہم کراچی میں بھی تم کو نہیں چھوڑے گے اس کے بعد 25 دسمبر2024کو شام چار اور پانچ کے درمیا ن پولیس کی وردی میں ملبوس چند پولیس والے اور ان کے ہمراہ (فروخت کنندہ )محمد بشیر ولد اللہ بچایو (مرحوم )اور خادم حسین ولد شبیر میمن اور ان کے ساتھ چند نامعلوم اسلحہ بردار نے ہمارے فش فارم پر غیرقانونی طور پر حملہ کیا اور ہمارے چوکیدار علی نواز کو 24 گھنٹوں کے اندر فش فارم کو خالی کرنے اور دھمکیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے ، جناب ظفر علی جعفری نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بحیثت پاکستانی پرامن اور کاروباری شہری ہونے کے ناطے وزیر اعلءسندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے پرزور درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اور میرے بیٹوں اور میرے چوکیدار کو مالی اور جانی تحفظ فراہم کریں مجھے اور میرے بیٹوں کو سخت جانی اور مالی خدشات ہیں یہ لوگ ہمیں جان سے نہ ماریں اور ہمارے فش فارم پر غیر قانونی قبضہ نہ کریں اور مجھے اور میرے بیٹوں کو قانونی تحفظ فراہم کریں ہم گزشتہ کئی ماہ سے کھارو ، گجو اور اپنے فش فارم تک نہیں جا سکیں ہیں اور شاہد اب بھی نہ جاسکیں وہ لوگ کافی بااثر ہیں ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن مجھے اور میرے بیٹوں کو مالی اور جانی تحفظ فراہم کرتے ہوئے فوری ایکشن لیں تا کہ ہم جیسے اور پاکستانی کاروباری افراد سکون سے اپنا کاروبار کر کے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔



