ایبٹ آباد میں یونیورسٹی کے طالب علم کے قتل کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی، جہاں جھگڑے کے دوران ایک طالب علم جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو نامزد کرلیا جبکہ مقامی سیاسی شخصیت افتخار جدون کے بیٹے کا نام بھی مقدمے میں سامنے آیا۔
واقعے کے بعد طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ بڑھتے ہوئے دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد ایم پی اے افتخار جدون نے اعلان کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو قانون کے سامنے پیش کریں گے اور پولیس کے حوالے کریں گے۔
ایم پی اے کا کہنا تھا کہ انصاف ہونا چاہیے اور قانون سب کیلئے برابر ہے، چاہے تعلق کسی بھی بااثر خاندان سے کیوں نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود بھی تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے



