قومی

سندھ حکومت کا کاروباری برادری اور عوام کو بڑا ریلیف، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقاتِ کار پر پابندی ختم

تمام مارکیٹس، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کو مقررہ بندش کے اوقات سے استثنیٰ دے دیا گیا، شرجیل انعام میمن

شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ سندھ نے کاروباری برادری اور عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے صوبے بھر میں دکانوں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس، شادی ہالز اور مارکیز کو مقررہ بندش کے اوقات سے استثنیٰ دے دیا ہے۔

کراچی میں جاری بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اب کاروباری مراکز سابقہ پابندیوں کے بغیر معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ تاجروں، صنعتکاروں اور عوامی حلقوں کی تجاویز اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹس، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کے لیے مخصوص اوقات اس سے قبل توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت مقرر کیے گئے تھے۔ تاہم موجودہ معاشی صورتحال اور کاروباری برادری کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے پالیسی میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا۔

سندھ کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت سندھ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، شہری سہولت اور معیشت کے استحکام پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت ہمیشہ مشاورت، عوامی مفاد اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف تاجر تنظیموں اور کاروباری نمائندوں نے حکومت کو اپنے تحفظات اور مشکلات سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد تفصیلی مشاورت کے نتیجے میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت سندھ نے عوام اور کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق کاروباری سرگرمیوں میں بہتری سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

تاجر برادری کی جانب سے حکومت سندھ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ مختلف مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور کاروباری حلقوں نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اوقاتِ کار میں نرمی سے کاروبار پر پڑنے والا دباؤ کم ہوگا اور صارفین کو بھی سہولت ملے گی۔

کاروباری ماہرین کے مطابق مارکیٹس اور تجارتی مراکز کے اوقات میں نرمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں جہاں رات کے اوقات میں بھی خریداری کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے چھوٹے کاروباروں، ہوٹل انڈسٹری اور فوڈ سیکٹر کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی ایسے فیصلے کرتی رہے گی جو معیشت، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی سہولت اور معاشی استحکام کے لیے تاجر برادری کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو اور صوبے کی معیشت مزید مستحکم ہو سکے۔

کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں اس فیصلے کے بعد کاروباری حلقوں میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مقررہ بندش کے اوقات کے خاتمے سے کاروبار معمول پر آئے گا اور صارفین کو خریداری کے لیے زیادہ وقت میسر ہوگا۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق اگر توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سہولت کے درمیان توازن قائم رکھا جائے تو اس طرح کے فیصلے معیشت کے لیے مثبت نتائج لا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پائیدار معاشی ترقی کے لیے حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button