قومی

مکان اور پلازہ بنانے کے واضح قوانین موجود ہیں، تعمیر سے پہلے زمین کی مٹی کا ٹیسٹ لازمی ہے شرجیل انعام میمن

 

 

کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں ایسو سی ایشن آف کنسلٹنگ انجنیئرز پاکستان کے زیر اہتمام انجینئرنگ اور تعمیراتی شعبے سے متعلق ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے سینئر انجینئرز، ماہرین اور آرکیٹیکٹس نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بطور مہمان خاص شرکت کی، کانفرنس میں آمد کے موقع پر پر انجینئرز اور آرکیٹیکٹس کی جانب سے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہمارا پورا نظام اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں ہم اصل مسائل پر بات ہی نہیں کرتے، جبکہ تمام میڈیا اور ٹی وی چینلز زیادہ تر سیاسی موضوعات تک محدود ہو چکے ہیں اور غیر نتیجہ خیز مباحث کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری گفتگو آپسی الزامات اور توہین تک محدود ہو گئی ہے، حالانکہ آج ہم ایک ایسے اہم موضوع پر بات کر رہے ہیں جو ہر فرد کی زندگی اور کام کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مشاورتی انجینئرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اس اہم مسئلے کو اٹھانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حادثات اور قدرتی آفات کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ناگزیر ہے۔

 


انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ موجود ہے، مگر انجینئرز، بلڈرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی بھی ذمہ داریاں ہیں، جبکہ سماجی ذمہ داری کسی حد تک سول سوسائٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت عرصے بعد کسی نے انہیں انجینئر کہہ کر مخاطب کیا، جو ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کراچی اور ملک کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے اور اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ کسی حادثے میں ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا تمام تر ذمہ داری صرف حکومت پر ڈال دینا درست ہے، جبکہ قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مکان اور پلازہ بنانے کے واضح قوانین موجود ہیں، تعمیر سے پہلے زمین کی مٹی کا ٹیسٹ لازمی ہے، مگر اکثر اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی عمارتوں میں سیم اور پانی کے رساؤ جیسے سنگین مسائل پائے جاتے ہیں، جن کی بروقت اصلاح ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کالجز اور جامعات کو بھی پیشہ ورانہ تربیت اور معیار پر توجہ دینا ہوگی۔
گل پلازہ سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پلازہ کے مالک نے کتنی منزلیں غیر قانونی طور پر تعمیر کیں اور کیوں نقشے کے مطابق عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی کے وقت عمارت میں تقریباً چار ہزار افراد موجود تھے، تاہم اس کے باوجود اسی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحے کے تمام محرکات سامنے آ چکے ہیں اور اگرچہ ابتدائی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، مگر سول سوسائٹی سمیت تمام متعلقہ افراد کو بھی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔
خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وہ عمران خان کی صحت کے لیے دعاگو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص آصف علی زرداری نہیں ہو سکتا جنہوں نے 14 سال قید کاٹی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہفتہ کو اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوتا، تو ایک بند عمارت کا گھیراؤ کرنے کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھٹی والے دن ایسے اقدامات سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے شاہراہ فیصل پر مارچ کیا جس سے عوام کو نقصان ہوا، حالانکہ شاہراہ فیصل نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی ایک مرکزی شاہراہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دے گی، البتہ اگر کوئی جلسہ یا دھرنا دینا چاہے تو حکومت مناسب جگہ فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو بھی اگر انہیں جلسے کا شوق ہے تو وہ بھی قواعد و ضوابط کے تحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ وفاق میں شامل ہے اور اپنے مطالبات وزیر اعظم کے سامنے رکھے، تاہم پارٹی ایک بار پھر اندرونی دھڑوں کا شکار ہو چکی ہے۔
رمضان المبارک کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہر سال ریلیف پیکج کا اعلان کرتی ہے اور گزشتہ رمضان میں بھی سبسڈی دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت صرف رجسٹرڈ افراد کو سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button