اہلِ ہزارہ کے لیے بڑی بریکنگ نیوز، نذیر عباسی اور ملک عدیل اقبال خیبرپختونخوا کابینہ کا حصہ بن گئے
ہزارہ ڈویژن کو ایک صوبائی وزیر اور ایک مشیر مل گیا، عوام میں خوشی کی لہر، گورنر ہاؤس میں حلف اٹھا لیا گیا

خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ میں توسیع کے دوسرے مرحلے میں ہزارہ ڈویژن کو اہم نمائندگی مل گئی ہے،
جس کے بعد پورے خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حکومت نے نذیر عباسی کو صوبائی وزیر جبکہ ملک عدیل اقبال کو مشیر کے طور پر کابینہ میں شامل کر لیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے گورنر ہاؤس میں اپنے عہدوں کا باقاعدہ حلف بھی اٹھا لیا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق کابینہ میں شامل کیے جانے کے بعد ہزارہ ڈویژن کے عوام میں خوشی اور اطمینان پایا جا رہا ہے، کیونکہ کافی عرصے سے خطے کی نمائندگی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ کابینہ کی توسیع کے دوسرے مرحلے میں ایبٹ آباد اور ہریپور کو نمائندگی دی گئی جبکہ مانسہرہ، کوہستان اور تورغر کو اس مرحلے میں نمائندگی نہ مل سکی۔
نذیر عباسی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ دوسری مرتبہ صوبائی وزیر بنے ہیں۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر مسلسل دوسری بار ایبٹ آباد کے حلقہ پی کے 42 سے منتخب ہوئے۔ انہوں نے گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار فرید کو بھاری اکثریت سے شکست دی تھی۔
نذیر عباسی کا تعلق ایبٹ آباد کے علاقے بکوٹ کے نواحی گاؤں کھن کلاں سے ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے میٹرک اور گریجویشن مکمل کی۔ ذرائع کے مطابق عاصم منیر ان کے کالج کے زمانے کے کلاس فیلو بھی رہے ہیں۔
سیاسی سفر کا آغاز انہوں نے بلدیاتی سیاست سے کیا۔ وہ یونین کونسل بکوٹ کے ممبر، بعد ازاں چیئرمین اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ناظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے مسلسل دو ادوار تک نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور علاقے میں اپنی مضبوط سیاسی حیثیت قائم کی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نذیر عباسی ایک متحرک، بااثر اور عوامی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عوامی مسائل براہِ راست حل کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے حلقے میں مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
وہ تحریک انصاف کے اندر بھی اہم مقام رکھتے ہیں اور پارٹی کی اندرونی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور دیگر مرکزی رہنماؤں کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔
2013 کے انتخابات میں انہوں نے پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی جبکہ 2023 کے انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے دور میں وہ وزیر مال کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سیاسی ذرائع کے مطابق کابینہ میں دوبارہ شمولیت کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر اہم وزارت دیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ملک عدیل اقبال کا صوبائی کابینہ میں شامل ہونا بھی ہریپور کی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا تعلق تحصیل غازی سے ہے اور انہوں نے اپنے والد ملک طاہر اقبال کے قتل کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا۔
2023 کے انتخابات میں انہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کئی مضبوط سیاسی شخصیات کو شکست دی۔ ان کی کامیابی کو ہریپور کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا گیا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق ملک عدیل اقبال کو کابینہ میں شامل کروانے میں عمر ایوب خان، یوسف ایوب اور اکبر ایوب سمیت اہم سیاسی شخصیات کا کردار بھی نمایاں رہا۔
ہزارہ ڈویژن کے عوام کا کہنا ہے کہ کابینہ میں نمائندگی ملنے سے علاقے کے ترقیاتی مسائل، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور روزگار کے معاملات کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جا سکے گا۔ عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے وزراء اور مشیر خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ میں ہزارہ ڈویژن کی نمائندگی نہ صرف سیاسی توازن کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے کابینہ میں توسیع کے ذریعے مختلف علاقوں کو نمائندگی دینے کی کوشش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کی مزید توسیع بھی مستقبل میں متوقع ہے، جس میں دیگر اضلاع کو بھی نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ تاہم موجودہ مرحلے میں ایبٹ آباد اور ہریپور کے عوام اس فیصلے کو اپنی سیاسی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
تقریبِ حلف برداری کے بعد مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے نذیر عباسی اور ملک عدیل اقبال کو مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ کارکنوں نے مختلف مقامات پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔



