ہم آئین اور قانون کی پاسداری کےلئے اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے,جسٹس اشتیاق ابراہیم
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا ہے کہ ہم آئین اور قانون کی پاسداری کےلئے اپنے حلف سے روگردانی نہیں کریں گے۔لوگ اپنے حق کے لئے نہیں آتے سسٹم پر ان کا اعتبار نہیں رہا ہے ۔ اپنے گھر کوٹھیک کرنا ہے جس کے لئے وکلا کا تعاون درکار ہوگا ۔عوام کے اعتماد کو حاصل کر نے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔روز نئی قانون سازی سے جوڈیشری کو مشکلات پیش آرہی ہیں ۔پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ کے مقدمات کو ویڈیو لنک کے ذریعے بھی سماعت کرے گا۔تین ماہ میں جوڈیشری کی اصلاحات میں نمایاں فرق محسوس ہوگا۔وکلا ئ کے بغیر جوڈیشری کا چلنا ممکن نہیں ہے۔خیبر پختونخوا میں چار لاکھ مقدمات زیر سماعت ہیں ،غیر ضروری مقدمات کی روک تھام کے لئے پبلک پراسیکیوشن کی تربیت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ بار میں نومنتخب عہدیدران کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جسٹس اعجاز اکبر ،جسٹس فہیم علی ،رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ اختیار خان،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد شعیب خان کے علاوہ ایڈیشنل سیشن ججز،سینئر سول ججز اور وکلا بھی موجود تھے۔چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ سسٹم میں بہتری لانے کے لئے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمات کو جلد نمٹانے کے لئے وفاق سے مذید ججز کی تعیناتی کی جا رہی ہے اس کمی کو دور کیا جائے گا اس کے لئے معیار ترجیح ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں کرائم ،سول اور فیملی مقدمات کو علیحدہ کیا جائے گا جس سے ججز کی کارکردگی بہتر ہوگی اور لوگوں کو ریلیف ملے گا ۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ملک میں روزانہ نئی نئی قانون سازی ہو رہی ہے۔اصلاحات ضرور کریں لیکن اس کے لئے ایڈیشنل کورٹ مہیا کی جائیں۔ججز اور وکلائ مل کر کام کریں تو نتائج بہتر آئیں گے۔انہوں نے ڈسٹرکٹ بار اور لائبریری کے لئے فنڈ مہیا کرنے کا اعلان کیا ۔قبل ازیں ڈسٹرکٹ بار ایبٹ آباد کے صدر عاطف خان جدون نے نومنتخب کابینہ سمیت اپنے عہدوں کا حلف بھی اٹھایا جس کا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے حلف لیا اور مبارکباد پیش کی۔صدر ڈسٹرکٹ بار عاطف جدون نے چیف جسٹس کو بار اور وکلائکو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا جس کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔صدر ہائی کورٹ بار کی جانب سے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور دیگر مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔


