ڈاکٹر مصدق ملک کا سندھ میں ماحولیاتی منصوبوں کا جائزہ، کاربن فنانس اور ویسٹ مینجمنٹ پر پیش رفت
وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی نے صوبائی حکومت اور ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں کو سراہا

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ، ڈاکٹر مصدق ملک نے سندھ میں جاری مختلف ماحولیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کے روز وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو کے ہمراہ ایک اہم اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں ورلڈ بینک کے نمائندوں، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ اور ماحولیات سمیت متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پاک فلو منصوبے، کاربن فنانس کے فروغ، کاربن اخراج میں کمی اور تصدیق شدہ اخراجی کمیوں سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سندھ حکومت کے مؤثر اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مینگرووز کے فروغ اور کاربن کریڈٹ کے شعبے میں اقدامات نہ صرف ماحول کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ قومی معیشت کو بھی فائدہ پہنچائیں گے۔
صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ سندھ حکومت ماحولیاتی تحفظ اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور ورلڈ بینک کے تعاون پر صوبائی حکومت کی جانب سے شکریہ بھی ادا کیا۔
بعد ازاں وفاقی وزیر نے جام چاکرو میں زیرِ تعمیر سینیٹری انجینیئرڈ لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا جو سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے تحت تعمیر کی جا رہی ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ لینڈ فل سائٹ پر پانچ نئی سینیٹری لینڈ فل سیلز تعمیر کی جا رہی ہیں جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل سینیٹری انفراسٹرکچر شامل ہے۔
ان منصوبوں کے تحت پاک فلو پراجیکٹ کے ذریعے 20 ملین امریکی ڈالر کی کلائمیٹ فنانس دستیاب ہوگی جس کی نگرانی ورلڈ بینک کر رہا ہے۔ یہ مالی معاونت تصدیق شدہ اخراجی کمیوں اور کاربن کریڈٹس سے منسلک ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور عالمی سطح پر پاکستان کے لیے نئے کلائمیٹ فنانس مواقع پیدا ہوں گے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ویسٹ مینجمنٹ کے جدید اور ماحول دوست اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی تکمیل کے ہر مرحلے پر شفافیت، معیار اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔


