وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنوبی ایشیا کا “نجات دہندہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیادت اور سفارتی مداخلت کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کو روکا گیا، جس سے لاکھوں جانیں بچ گئیں۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں کشیدگی ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکی تھی اور کسی بھی غلط فیصلے کے نتیجے میں پورا جنوبی ایشیا بدامنی کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی بروقت سفارتی کوششوں اور براہ راست رابطوں نے حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا۔
انہوں نے کہا کہ “ہم صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہوا بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک مثبت پیغام ملا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے مسلسل سفارتی رابطے، باہمی احترام اور عالمی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر اعظم کا یہ بیان خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا کردار تاریخی طور پر جنوبی ایشیا میں اہم رہا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی تھی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کا خواہاں ہے اور وہ تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امن کی ہر سنجیدہ کوشش کا ساتھ دے گا۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر عالمی طاقتیں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی رہیں تو خطے میں طویل المدتی استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کے گنجان آباد ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی بڑی جنگ کے انسانی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں سفارتکاری کو ترجیح دینا عالمی امن کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
وزیر اعظم کے بیان کے بعد سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ امن کی ہر کوشش کو سراہا جانا چاہیے، خصوصاً جب اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہوا ہو۔
رپورٹ: عبدالمومن


