عالمیقومی

معرکۂ حق میں بھارت کے 8 جہاز گرائے، ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پروجیکٹس

پاک فضائیہ کے اعلیٰ افسر کا دعویٰ، قومی دفاع میں فضائی قوت کے مؤثر کردار اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا گیا

پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف (پروجیکٹس) نے کہا ہے کہ “معرکۂ حق” کے دوران پاک فضائیہ نے بھرپور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے 8 جنگی طیارے مار گرائے۔ انہوں نے اس کارروائی کو قومی دفاع، عسکری حکمت عملی اور پائلٹس کی غیر معمولی مہارت کا مظہر قرار دیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاک فضائیہ نے جدید ٹیکنالوجی، مربوط حکمت عملی اور اعلیٰ تربیت کی بدولت کامیابیاں حاصل کیں۔

انہوں نے کہا کہ فضائی جنگ صرف طاقت کا نہیں بلکہ مہارت، بروقت فیصلوں اور جدید نظاموں کے مؤثر استعمال کا امتحان ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ کے جوانوں اور پائلٹس نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔

ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف نے اس موقع پر پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تکنیکی ترقی، اور آپریشنل تیاریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں دفاعی شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے باعث فضائی دفاعی نظام مزید مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملکی دفاع صرف فوجی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔ عوام کی حمایت اور قومی یکجہتی نے ہمیشہ افواجِ پاکستان کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ ان کے مطابق قومی اتحاد ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

تقریب کے دوران شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے حقیقی ہیرو ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق فضائی طاقت جدید جنگی حکمت عملی میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جدید دور میں فضائی برتری کسی بھی تنازع میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک اپنی فضائی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

تقریب میں جدید دفاعی منصوبوں، مقامی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری، اور نوجوان انجینئرز و ماہرین کی تربیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ حکام کے مطابق پاکستان دفاعی خود انحصاری کے سفر میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں آگے آئیں تاکہ ملک کے دفاعی اور تکنیکی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے جیتی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور خطے میں استحکام چاہتا ہے، تاہم اگر ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو ہر سطح پر بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

تقریب کے اختتام پر پاک فضائیہ کی خدمات، آپریشنل تیاریوں اور قومی سلامتی کے لیے کردار کو سراہا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button