ہزارہ

وفاقی حکومت کا دوران ملازمت انتقال کرجانے والے ملازمین کے بچے کو نوکری نہ دینے کا فیصلہ ظلم ہے

سن کوٹہ کو بھی بحال کیا جائے۔ پنشنرز، ریٹائرڈ املازمین کے واجبات، ترقیوں اور تقرریوں میں گھپلوں کا ایم پی پی لیبر ونگ کا نوٹس

کراچی ایم پی پی کی کراچی تنظیمی کمیٹی ، لیبر ونگ کمیٹی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا دوران ملازمت انتقال کرجانے والے ملازمین کے بچے کو نوکری نہ دینے کا فیصلہ ظلم ہے۔ سن کوٹہ بھی بحال کیا جائے۔ پنشنرز، ریٹائرڈ املازمین کے واجبات، ترقیوں اور تقرریوں میں گھپلوں کا ایم پی پی لیبر ونگ کا نوٹس، تعلیم یافتہ نوجوانوں کا معاشی قتل عام کرنے اور انہیں نا امید کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو عدالتوں میں جاکر فوتگی اور سن کوٹہ بحال کرانا چاہئے تھا کراچی کے ڈومیسائل بنا کر کراچی کے نوجوانوں کا حق مارا جا رہا ہے۔ کراچی کے منتخب نمائندے ان ظالمانہ اقدامات کی توثیق کا حصہ بن رہے ہیں۔ جو ایک سوالیہ نشان ہے؟ کراچی کے بلدیاتی ادارے تجربہ گاہ بن گئے ہیں جنہیں عوامی میں صفر اور ملازمین کے ساتھ روا سلوک میں سو فیصد مسائل کا سامنا ہے۔ شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہے۔ معاشی قتل عام کے بعد تعلیمی استحصال عروج پر ہے۔ ڈبل ڈومیسائل پر ملازمتوں کے بعد اب تعلیمی اداروں میں بھی حق مارا جا رہا ہے۔ ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بھی بدترین صورتحال سامنے آئی کراچی کے نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی کوشش جا ری ہے۔ لیکن ہم باور کرنا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان پاکستان میں مایوسیوں کے خاتمے اور امید کی کرن اور ریاست پہلے سیاست بعد میں اور ملک کے موجودہ نظام میں میرٹ اور نوجوانوں کو بہترین مواقع دے کر مایوسی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ ہم ملازمین۔طلبہ اور عوام کے شانہ بشانہ ہیں اور وفاقی اور صوبائی حکومت سے
فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ منتخب نمائندے بھی مقدمہ لڑیں اور حق داروں کا حق دلائیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button