میئر کراچی کراچی کی بیک بون ہیں انہیں کالی بھیڑوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے..
300ٓAbonded Properties کے وفاقی حکومت کے پلاٹ جنہیں کے ڈی اے نے لیز دی۔
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ آفیسرز ایکشن کمیٹی کی سینئر نائب صدر اور آفیسرز یکشن کمیٹی کی صدر سیدہ رباب جعفری، کووا کراچی کے اقبا ل خان، یونائیٹڈ آفیسرز فورم کے عدنان آرائیں نے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میئر کراچی کراچی کی بیک بون ہیں انہیں کالی بھیڑوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر جعلساز افسران اپنی انکوائریز اور جعلسازیوں سے بچنے کے لئے انکے پیچھے چھپ کر بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز جاری ایک افسر کے ایماء پر جاری بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2019سے لے کر ابتک 8مرتبہ افسران پی ڈی کے عہدے پر تعینات ہوچکے ہیں۔ لیکن سیاسی رقابت اور قبضوں کی جنگ میں مکروہ فعل کے مرتکب افسران نے میڈیا کو بھی چونا لگا دیا۔ 300ٓAbonded Properties کے وفاقی حکومت کے پلاٹ جنہیں کے ڈی اے نے لیز دی۔ انہیں حکومت سندھ کی جانب سے منسوخی کے لیٹر کے بعد کسی فرد سے منصوب کرنا جاہلانہ قانون سے نابلد اور جعلی دستاویزت پر تقرری پانے والے افسر کو الف (ب) کا بھی علم نہیں۔ دوسری جانب کچی آبادی کے پلاٹوں کو جنکی الاٹمنٹ نہیں ہوتی انہیں بھی شامل کرنا۔ زاتی عناد اور پیپلز پارٹی رہنما اور اپنی ذاتی جنگ میں شامل کرکے خاندانوں کی بات کرنا انکی پست ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ میئر کراچی نے دو مرتبہ اسی پی ڈی کو تعینات کیا اور انکی ٹیم کے اراکین جس میں ایک اسوقت اینٹی کرپشن میں اہم عہدے پر موجود ہیں ان نتمام امور پر بات اور مطمئن ہونے کے بعد تعیناتی دی۔ یہ بھی جاہل افسر کو معلوم نہیں کہ کئی رفاہی پلاٹ لیز نہ کرنے اور ڈٹ جانے پر سابقہ میئر نے انہیں سیٹ سے ہٹا کر نیب زدہ افسر شارق الیاس جو انکے حلف یافتہ کارکن تھے انہیں غلط فہمیاں پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ لیکن سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر انہیں ہٹا یا گیا۔ سابق پی ڈی رضا عباس رضوی کو بھی مفتی منیب الرحمان کی کونسل قرارداد ہونے کے باوجود لینڈ گریبرز نے نشانہ بنایا۔ غیر قانونی سوسائٹیز خٹم کرنے پر اسوقت کے وزیر اینٹی کرپشن انور سیال نے رضوان خان کو تعریفی سند دی۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن میں کئی حملے ہوئے میڈیا گواہ ہے۔ سیدہ رباب جعفری نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں جرمن کورین کے لئے کمیٹی بنائی گئی جسکی سفارشات آگئی ہیں۔ یہ کرسچن کمیونٹی اور انٹرنیشنل این جی او کا پروجیکٹ تھا۔جس میں جسٹس ندیم اختر نے کے ایم سی کی جعلی انکوائری رپورٹ اور جعلی دستاویزات پر سخت سرزنش کی جس پر ایک افسر معطل تک کیا گیا۔ یہ لیزیں منسوخی کے لئے جس افسر کو وہ متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انکی سفارشات پر عزرا مقیم صاحبہ نے جمع کرائیں۔ جس میں پی ڈی خود موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے زمانے کی لیزیں فائل اصل مالکان کو نہ دینے کی وجہ سے متنازعہ ہیں۔ جسکے لئے سفارشات بھیج کر وسیم اختر نے کمیٹی بنا دی تھی کیونکہ اصل فائلیں 22اگست 2016کے چھاپوں میں سیکٹروں سے چلی گئی تھیں۔ کچی آبادی میں الاٹمنٹ نہیں ہوتی قبضہ کی بنیاد پر پورے ایک پراسسیس کے بعد ہوتی ہے۔ جولائی 2023میں اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ٹاؤن چیئرمین اہم ریکارڈ لے گئے جسکی نیب سمیت اینٹی کرپشن، حساس اداروں کو رپورٹ کی گئی۔ کے ایم سی انکوائری میں بھی پی ڈی درست ثابت ہوئے اسکی رپورٹ صوبائی محتسب کے پاس لیگل ڈپارٹمنٹ جمع کراچکا ہے۔ لینڈ کی الف (ب) سے ناواقف شخص میونسپل کمشنر کو گمراہ کرکے ہر صحیح کام کو بھی غلط بتا کر اپنا الو سیدھا کر رہا ہے۔ جہاں تک خاندانوں کی لیز کاتعلق ہے اینٹی کرپشن عدالت میں مذکورہ شخص موجودہ پی ڈی کو طلب اور تحقیقات شروع ہو چکی ہے۔ دودوھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ قانون پرعمل کرکے ہر کام ہوا۔ اب جبکہ جج ذولفقار شاہ اور فائق پٹھان کے ایم سی کی زمینیں چھین چکے ہیں۔2023میں ریٹائرمنٹ تک ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ میں رضوان خان ہی اپیلوں میں گئے۔ موجودہ پی ڈی نے زمین بچانے کے لئے کیا کیا؟ چائنا کٹنگ دور کو نعمت اللہ خان کی سپریم کورٹ پیٹیشن میں اسی پی ڈی نے پوری لسٹ جمع کرائی۔ 22پارک، 3گراؤنڈ اور 56جگہوں کی نشاندہی کی گئی۔ موجودہ پی ڈی نے وہ زمین واگزار کیوں نہیں کرائی۔ خود کو احتساب کے لئے پیش کریں۔ ہمارا افسر ہر جگہ پیش ہورہا ہے اور ہم نے قانونی کاروائی شروع کردی ہے۔ بہادر خان خٹک، محمد اکرم اور صابر علی ایڈووکیٹ نے تمام تیاریاں کرلی ہیں۔ ہم میئر کراچی کی ٹیم ہیں اور انکے شانہ بشانہ ہیں اور افضل زیدی بھی ہمارے لئے محترم ہیں لیکن ترازو کے دونوں پلڑے دیکھے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔


