قومی

صوابی امن چوک میں سٹریٹ موومنٹ کا دوسرا پڑاؤ، عوام نے والہانہ استقبال کیا

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسد قیصر اور شہرام خان ترکئی کی قیادت میں عوامی جلسہ، مقامی مسائل کے حل اور آئینی شعور کی بیداری کے لیے جاری تحریک

صوابی امن چوک میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، مرکزی رہنما پاکستان تحریکِ انصاف اور سیکرٹری جنرل تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اسد قیصر، اور رکنِ قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی کی قیادت میں سٹریٹ موومنٹ کا دوسرا پڑاؤ بڑے جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا۔ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور رہنماؤں کا والہانہ استقبال کیا، جس سے پارٹی کی مقبولیت اور عوامی اعتماد کا منظر عیاں ہوا۔

وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے خطاب میں کہا کہ سٹریٹ موومنٹ کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے جائز مطالبات کو حکومت تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک عوام کو متحرک کرنے، ان کے مسائل سننے اور عملی حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ملکی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے سرگرمی سے حصہ لیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں۔

اسد قیصر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھرپور شرکت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کے لیے متحد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سٹریٹ موومنٹ نہ صرف سیاسی سرگرمی ہے بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے اور شہریوں کو آئینی حقوق کے بارے میں آگاہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر تعلیم، صحت، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مستقل رابطہ اور جدوجہد ضروری ہے، اور یہی تحریک کا بنیادی مقصد ہے۔

رکنِ قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی نے بھی خطاب میں عوام کو یقین دلایا کہ ان کی آواز کو قومی اسمبلی اور صوبائی حکومت میں پہنچانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر موقع پر اپنے نمائندوں سے رابطہ قائم رکھنا چاہیے تاکہ مقامی مسائل جلد حل ہو سکیں۔

جلسے میں نوجوان، خواتین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بھرپور شرکت کی، اور چوک کے اردگرد سڑکیں عوام سے بھری رہیں۔ اس موقع پر سٹریٹ موومنٹ کی ٹیم نے امن و امان اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا، جس سے پروگرام کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔

سٹریٹ موومنٹ کے منتظمین نے اعلان کیا کہ یہ سلسلہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی جاری رہے گا تاکہ عوام کی آواز ہر سطح پر پہنچائی جا سکے اور آئینی شعور کے فروغ کے لیے آگے بڑھا جا سکے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button