سندھ حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے مانع حمل ادویات کی خریداری کے لیے 99 کروڑ روپے مختص کر دیے
خاندانی منصوبہ بندی کے دائرہ کار میں توسیع، سہولیات میں اضافہ اور مانع حمل طریقوں کے استعمال میں نمایاں بہتری

سندھ حکومت نے مالی سال 26-2025 کے دوران مانع حمل ادویات کی خریداری کے لیے 99 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو 2016 سے جاری سالانہ 90 کروڑ روپے کے بجٹ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ اقدام صوبے میں خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد محکمہ بہبودِ آبادی کی صوبائی سطح پر منتقلی کے بعد سندھ حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس توسیع شدہ دائرہ اختیار کے نتیجے میں نہ صرف سروس ڈیلیوری میں بہتری آئی ہے بلکہ مانع حمل ادویات کی دستیابی اور بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق محکمہ بہبودِ آبادی سندھ اس وقت صوبے بھر میں 1125 سروس ڈیلیوری مراکز چلا رہا ہے، جبکہ پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے تحت 1384 اضافی مراکز میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید برآں محکمہ صحت سندھ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ مل کر 3000 سے زائد صحت مراکز میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہا ہے، جن میں 20 ٹیئرشیری کیئر اسپتال بھی شامل ہیں۔ اس مربوط نظام نے عوامی شعبے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
مانع حمل ادویات کی فراہمی کے حوالے سے سندھ حکومت نے محکمہ صحت، پی پی ایچ آئی اور شراکت دار غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ادویات کی خریداری کی ذمہ داری خود سنبھال لی ہے۔ مؤثر نتائج کے حصول کے لیے طویل المدتی مانع حمل طریقوں جیسے آئی یو سی ڈی اور امپلانٹس کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مالی سال 26-2025 کے لیے مانع حمل ادویات کی خریداری کے لیے 99 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو 2016 سے برقرار 90 کروڑ روپے کے بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے مانع حمل طریقے جن میں سیانا پریس، جیڈل اور امپلانن این ایکس ٹی شامل ہیں، متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ خواتین کو زیادہ انتخاب اور بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات سے تولیدی صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 18-2017 کے مطابق سندھ میں مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح 31 فیصد تھی جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز سروے 2024 کے مطابق بڑھ کر 41.8 فیصد ہو گئی ہے۔
سرکاری شعبے کی کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران 60 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد نے قلیل المدتی مانع حمل طریقے اختیار کیے، 19 لاکھ 10 ہزار نے طویل المدتی طریقے اپنائے جبکہ 2 لاکھ 85 ہزار 200 ٹیوبل لیگیشن کے کیسز رپورٹ ہوئے۔



