قومیہزارہ

خیبرپختونخوا میں ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2026–2030 کا مسودہ مکمل، قومی یومِ خواتین پر اجراء کا اعلان

خواتین کے حقوق، معاشی خودمختاری اور سیاسی شمولیت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت

خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (کے پی سی ایس ڈبلیو) نے چیئرپرسن ڈاکٹر ثمرہ شمس کی قیادت میں ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2026–2030 کا مسودہ حتمی شکل دے دی ہے، جو صوبے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی منظوری کے لیے سمری کے ذریعے صوبائی کابینہ کو پیش کی جائے گی جبکہ اس کا باقاعدہ اجراء 12 فروری، قومی یومِ خواتین کے موقع پر کیا جائے گا۔

اس حوالے سے بدھ کے روز پشاور میں کمیشن کے دفتر میں ویمن امپاورمنٹ پالیسی (2026–30) کے تحت قائم ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرپرسن ڈاکٹر ثمرہ شمس نے کی۔ اجلاس میں ٹیکنیکل کمیٹی کے ارکان اور متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں شریک ہونے والوں میں عائشہ بانو، ممبر لوکل گورنمنٹ کمیٹی؛ اکرام اللہ خان، بورڈ ممبر کے پی سی ایس ڈبلیو؛ شازیہ عطا، سیکریٹری ویمن کمیشن؛ سیدہ ندرت، محکمہ سوشل ویلفیئر؛ زینب خان، سربراہ یو این ویمن خیبرپختونخوا سمیت دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل تھے۔

اجلاس کے دوران ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2026–2030 کے مسودے پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی، جس کے بعد پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ کمیٹی کے اراکین نے پالیسی کے اغراض و مقاصد، عملدرآمد کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی کردار پر اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں، جن کا مقصد صوبے بھر میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شمولیت کو مضبوط بنانا ہے۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ پالیسی آئینِ پاکستان اور صوبائی سطح پر نافذ دیگر پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کے نتیجے میں ہر عمر کی خواتین کے خلاف صنفی امتیاز میں نمایاں کمی آئے گی، خواتین کو انصاف تک رسائی میں سہولت ملے گی اور متعلقہ اداروں کے مابین رابطہ اور ہم آہنگی بہتر ہوگی۔

اجلاس میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ قوانین کے مطابق خواتین کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ صوبائی کابینہ، بلدیاتی اداروں، سالانہ بجٹ سازی، مشاورتی فورمز، قائمہ کمیٹیوں اور منصوبہ بندی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔

شرکاء نے اس امر کو اجاگر کیا کہ مجوزہ پالیسی کا مقصد خواتین کی عوامی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا، حقوق کا تحفظ کرنا اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی کے تحت قلیل المدتی، وسط المدتی اور طویل المدتی اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جو خیبرپختونخوا میں خواتین کی مجموعی فلاح و بہبود اور بااختیاری میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری کے بعد پالیسی کو متعلقہ محکموں سے ویٹنگ کے عمل سے گزارا جائے گا، جس کے بعد اسے صوبائی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد اس پالیسی کا باقاعدہ اجراء قومی یومِ خواتین کے موقع پر کیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کے ویژن کے مطابق اور ڈاکٹر ثمرہ شمس کی قیادت میں کے پی سی ایس ڈبلیو نے صرف تین ماہ کے قلیل عرصے میں اس اہم پالیسی کو حتمی شکل دے کر ایک نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ پالیسی صوبے بھر میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے مثبت اور دیرپا نتائج مرتب کرے گی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button