وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
پاکستان اور قطر کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ، علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو بدھ کی شام ریاستِ قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی جانب سے ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ٹیلیفونک رابطے کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر نے پاکستان اور قطر کے درمیان موجودہ دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان تاریخی، برادرانہ اور باہمی اعتماد پر مبنی روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور قطر کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور دیرینہ دوستی پر قائم ہیں۔
گفتگو کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ علاقائی پیش رفت اور بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خطے میں قیامِ امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے قطر کے مثبت، تعمیری اور فعال کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قطر نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ پاکستان بھی خطے میں امن، استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے خاتمے اور پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر، پاکستان کے ساتھ قریبی مشاورت اور تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے، تاکہ خطے کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر حل نکالا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت اور عوامی روابط کے شعبوں میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام مستفید ہو سکتے ہیں۔
ٹیلیفونک گفتگو کے اختتام پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر نے آنے والے دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ رابطہ پاکستان کی متحرک سفارت کاری اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اس کے ذمہ دارانہ کردار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ قطر کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔


