حنیف عباسی نے ریلوے اصلاحات اور ریونیو میں نمایاں اضافے پر روشنی ڈال دی
ہویلیاں ریلوے اسٹیشن پر ہزارہ ایکسپریس کی اپ گریڈڈ ٹریک کا افتتاح، جدید سہولیات، انفراسٹرکچر کی بہتری اور ڈیجیٹائزیشن سے عوامی اعتماد میں اضافہ

وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز میں وسیع اصلاحات، جدید سہولیات، انفراسٹرکچر کی بہتری اور ڈیجیٹائزیشن کے باعث عوامی اعتماد اور آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ہویلیاں ریلوے اسٹیشن پر ہزارہ ایکسپریس ٹرین کے ریفربشڈ ٹریک کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ عوامی اجتماع میں تبدیل ہو گیا جو ریلوے کی ترقی میں عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے ہویلیاں ریلوے اسٹیشن کو تاریخی مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق بھی ہزارہ ڈویژن سے ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ریلویز نے متعدد اہم اہداف حاصل کیے ہیں اور خیبرپختونخوا کے لیے چھ ٹرین ریکس مختص کی گئی ہیں تاکہ پشاور سے کراچی سفر کرنے والے مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ ایکسپریس میں نئے اور ریفربشڈ کوچز شامل کیے گئے ہیں جس سے سفر مزید آرام دہ ہو گیا ہے۔
اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ ملک بھر کے 60 ریلوے اسٹیشنز کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے جس سے نظام میں شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی تا روہڑی 600 ارب روپے مالیت کا ریلوے ٹریک منصوبہ زیرِ تعمیر ہے جبکہ مجوزہ روہڑی تا نوکنڈی ریلوے لائن معدنی وسائل سے مالا مال چاغی کے علاقے کو وسطی ایشیائی ممالک، جن میں قازقستان اور ترکمانستان شامل ہیں، سے منسلک کرے گی۔
ریلوے کی مالی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دسمبر میں مسافر اور مال بردار سروسز سے حاصل ہونے والی آمدن ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی اور ایک ہی مہینے میں ریونیو 10 ارب روپے تک جا پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز نے اصلاحات، انفراسٹرکچر کی ترقی اور سروس میں بہتری کے ذریعے ایک کھرب روپے آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے ریلوے رابطوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے اور جاری اصلاحات کا مقصد پاکستان ریلویز کو جدید، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بنانا ہے۔


