بلاول بھٹو نوٹس لیں۔ سسٹم کے افراد کھلے عام رشوت لے کر تعیناتیاں اور جعلی افسران کو اہم منصب پر لگا کر انکی اپنی جماعت کی قبر کھود رہے ہیں۔
کراچی رائٹس آرگنائزیشن سعید تنولی، شاہد میاں، راجہ رستم خاصخیلی، نعمان سیٹھی، دیدار بھٹی، قیوم زئی، شبانہ گل، نادرہ پروین، کلثوم چانڈیو، زید عباس، رضی عباس، رشید رضوی، عمیر جتوئی، نعمان مگسی، امداد ساریو، غلام مرید سومرواور فرید آرائیں کا مشترکہ بیان
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی رائٹس آرگنائزیشن کی 17رکنی مرکزی کابینہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ میئر کراچی نے کے ایم سی کو کرپشن کا گڑھ اور کراچی میں پیپلز پارٹی کو کمزور کردیا ہے۔ انکے سسٹم کے افراد کھلے عام رشوت لے کر تعیناتیاں اور جعلی افسران کو اہم منصب پر لگا کر انکی اپنی جماعت کی قبر کھود رہے ہیں۔ ڈپٹی میئر سلمان مراد بلوچ کو میئر کا چارج دے کر تحقیقات اور احتساب کا عمل شروع کیا جائے۔ سعید تنولی، شاہد میاں، راجہ رستم خاصخیلی، نعمان سیٹھی، دیدار بھٹی، قیوم زئی، شبانہ گل، نادرہ پروین، کلثوم چانڈیو، زید عباس، رضی عباس، رشید رضوی، عمیر جتوئی، نعمان مگسی، امداد ساریو، غلام مرید سومرواور فرید آرائیں نے کراچی میں میئر کی نا اہلی سے مزہبی ہم آہنگی کے مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ مدرسہ، مسجد کی زمین پر دکانیں تعمیر ہورہی ہیں اورنگی اور نیو کراچی میں نالوں پر تعمیرات مسمار ہونے کے بجائے تعمیر ہو رہی ہیں۔ گلشن ضیاء میں پی ڈی اورنگی اور اسکا عملہ خود قبضے کراکے لاکھوں روپے رشوت لے رہا ہے۔ جسکا کہنا ہے کہ میئر اور میونسپل کمشنر کو ماہانہ رشوت کہاں سے دیں اس لئے پی ڈی کا فری ہینڈ ہے۔ جعلی آکشن چھپانے میں ناکامی کے بعد نیب میں رقم کھلا کر قانونی مارکیٹ دکانداروں کو نوٹس بھیج کر جنہیں لکھنا پڑھنا بھی نہیں آتا دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ فیصل رضوی نے رفاہی پلاٹ اور کئی ڈبل لیزیں موصوف نے کردی ہیں۔ جعلی موٹیشن اور افسران کے جعلی دستخط سے این اوسیزمنسوخ کرکے قبضے کئے جا رہے ہیں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں۔ ڈپٹی میئر کو کسی معاملے میں بولنے کی اجازت نہیں عباس رضا زیدی، اطہر نقوی، معظم قریشی اور محسن شیخ میئر کے دست راست فیاض چاچڑ کو کروڑوں روپے جمع کرا رہے ہیں۔ جبکہ یہی سسٹم میونسپل کمشنر کو رقم دے رہا ہے۔ افضل زیدی کی دوسری ٹرن چھ سال بھی ختم ہوگئی ہے لیکن کرپشن کے لئے انہیں ساجھے داری پر وفاق واپس نہیں کیا جا رہا۔ اسلم سموں نے الگ ریاست قائم کر رکھی ہے، کرپشن جعلی بھرتیوں اور جعلی ترقیوں کے نام پر کروڑوں روپے کما لئے گئے ہیں۔ اسی پر پیپلز لیبر بیورو دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ٹھیکیداروں کو ہائی کورٹ کے حکم کے برخلاف 25فیصد ادائیگی پر ٹھیکدار وں کو دھمکی دی گئی ہے جو کورٹ گیا اسے کام نہیں ملے گا۔ کراچی میں سڑکوں کی مرمت نہیں کی جا رہی۔ نالوں کی صفائی کے پیسے بھی ہضم کرلئے گئے ہیں اگر طوفانی بارشیں ہوئیں تو اربن فلڈ آجائے گا۔ 40افسران کو سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم کے زریعے لاکھوں روپے فی کس لے کر بغیر کسی انکوائری کے بحال کردیا گیا ہے۔ نیب زدہ افسران کا کرپشن میئر کے دور میں مکمل راج ہے۔ فیصل رضوی کی تحقیقات نہیں کی جا رہی۔ جسکی منی لانڈرنگ اور متعدد فراڈ کیس سامنے آچکے ہیں۔ اطہہر نقوی نامی شخص اورنگی کمیاڑی، بلدیہ ٹاؤن اور کاٹیج انڈسٹریز کی زمینیں بھگتا رہا ہے اور بیٹر بھی ہے۔ جبکہ محسن شیخ کو میونسپل کمشنر نے ایچ آر ایم میں تعینات اپنے مہرے کے ساتھ ملکر بڑے بڑے کام اتارنے کا حدف دیا ہے۔ بلاول بھٹو چار سال بعد جس میں اب دو سال ہیں کراچی کے عوام کو میئر کی جگہ کیا جواب دیں گے؟ ہم با ر بار چیئرمین کی آنکھیں کھول رہے ہیں۔ فوری اسمگلنگ کرانے والے پی ڈی بس ٹرمینل اور زمینوں پر قبضہ میں ملوث پی ڈی اورنگی جو چورنگی گھمانے اور حقائق کو تروڑ مروڑنے کا ماہر ہے میئر کے سارے دھندوں اور کیرئیر پر دھبہ لگا رہا ہے نہ ہٹا کر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ افضل زیدی کو فوری وفاق واپس کیا جائے۔ کلک میں اربوں کی کرپشن اور کے ایم سی میں بدعنوانیوں کی بھی میونسپل کمشنر کی تحقیقات کرائی جائیں۔ ڈپٹی میئر سلمان مراد بلوچ کو میئر بنایا جائے تاکہ کراچی میں کام ہوں۔ ٹی ایم سیز کا بھی یہی حال ہے صفورا اور سہراب گوٹھ ٹاؤن کرپشن کا مکمل گڑھ ہیں۔ پٹرول افسران کے بجائے بیچا جارہا ہے۔ جعلی بلنگ عروج پر ہے۔ ایس بی سی اے میں بھی سسٹم افسر آچکے ہیں۔ کراچی رائٹس آرگنائزیشن شہر کے بہتر مفاد میں میئر کی برطرفی، کراچی کے منتخب نمائندوں کو جاری فنڈز کا حساب اور جماعت اسلامی سمیت تمام سسٹم کارندوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ وفاق کراچی کے لئے دو سو ارب جاری کرے۔ سندھ فوری سو ارب سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لئے جاری کرے۔


