ایران میں قومی رہنما کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ملک بھر میں گہرے دکھ اور صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں رنج و الم کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ کئی افراد آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ دعائیں کرتے نظر آئے۔
عوام کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ ملک کی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ہے۔ مساجد اور عوامی مقامات پر خصوصی دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان متوقع ہے۔ سیکیورٹی ادارے بھی مختلف مقامات پر موجود ہیں تاکہ صورتحال کو منظم رکھا جا سکے۔
ملک میں ایک سنجیدہ اور پُرغم فضا قائم ہے، اور آنے والے دنوں میں سرکاری تدفین اور دیگر اہم اعلانات متوقع ہیں۔ ایرانی عوام اپنے رہنما کو الوداع کہتے ہوئے اتحاد اور استحکام کی دعا کر رہے ہیں۔
رپورٹ: عبدالمومن


