ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کے انتقال کے بعد قیادت کا سوال
جانشینی کا عمل شروع، مجلسِ خبرگانِ رہبری نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کی ذمہ دار

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ملک میں قیادت کے مستقبل پر سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق آئین کے تحت سپریم لیڈر کی وفات کے بعد مجلسِ خبرگانِ رہبری نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کی ذمہ دار ہوگی۔
ایران کی اعلیٰ قیادت نے فوری اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے 1989 میں قیادت سنبھالی تھی اور تقریباً چار دہائیوں تک ایران کی سیاست، مذہب اور خارجہ پالیسی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کے انتقال کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اب ایران کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جانشینی کا عمل پیچیدہ اور حساس ہوگا، کیونکہ نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب ایران کے مستقبل کے سیاسی اور سفارتی راستے کا تعین کرے گا۔ عوامی سطح پر بھی بے چینی پائی جاتی ہے اور ملک بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ کون نیا سپریم لیڈر بنے گا۔



