ایبٹ آباد میں ماحولیاتی تبدیلی کے واضح اثرات کے باوجود ضلعی انتظامیہ ،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماحولیات ٹھوس اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے
ایبٹ آباد(نمائندہ خصوصی)ایبٹ آباد میں ماحولیاتی تبدیلی کے واضح اثرات کے باوجود ضلعی انتظامیہ ،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماحولیات ٹھوس اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے۔رواں سال گرم ترین ہونے پر بھی درختوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے شجر کاری مہم میں دلچسپی کم دکھائی دے رہی ہے۔14 اگست کو شجر کاری کا دن منانے اور عملی طور پر شہر میں زیادہ سے زیادہ پھلدار اور دیگر درخت لگانے کے لئے کوشش کی جائے۔ماحول دوست شہریوں کے مطابق ایبٹ آباد شہر کے اندر شجر کاری کی اشد ضرورت ہے،کنج کیہال ،ملکپورہ ،شیخ البانڈی اور نواں شہر کے ملحقہ پہاڑی رقبہ پر شجر کاری کے اچھے خاصے مواقع موجود ہیں۔جو ملی بھگت سے چٹیل میدان بن چکے ہیں ۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ثناء اللہ خان کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ شہر کو سرسبز بنانے کے لئے سربن پہاڑی سلسلہ پر شجر کاری کی جائے۔جہاں پھلدار درختوں کے ساتھ دیگر ماحول دوست درخت لگانے کے لئے سرپرستی کریں جس کے لئے سکول کالجز اور یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے ۔واضح رہے کہ ایبٹ آباد میں درجہ حرارت 16 اور 20 سینٹی گریڈ سے بڑھ کر 30 اور 35 سینٹی گریڈ کی حد عبور کر چکا ہے ۔موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ،رہائشی کالونیوں کی بھرمار اور چار سو ٹن روانہ کی بنیاد پر کچرا کو سائنسی طریقہ سے تلف نہ کرنا ہے۔ایبٹ آباد میں پینے کے پانی کی گہرائی کی سطح 50 فٹ سے بڑھ کر ڈھائی سو فٹ تک تجاوز کر چکی ہے۔بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہ ہونے اور واٹر ریچارج کے طریقہ پر عمل نہ ہونے سے بھی اضافی پانی ندی نالوں کے زریعے دریا برد ہو رہا ہے۔ایبٹ آباد کے منتخب ارکان اسمبلی بھی اس سنجیدہ پہلو پر ٹھوس اقدامات اٹھانے سے قاصر ہیں۔


