ایبٹ آباد میں خواجہ سرا پر تشدد کا واقعہ، مرکزی ملزم گرفتار
ڈی پی او کی ہدایات پر پولیس کا فوری ایکشن، مقدمہ درج، مزید ملزمان کی تلاش جاری

ایبٹ آباد میں خواجہ سرا پر تشدد کے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دیگر ملوث افراد کی تلاش کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈی پی او ہارون رشید خان کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی، جنہوں نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا حکم دیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ سکندر آباد کی حدود میں جے ڈاٹ کے قریب پیش آیا، جہاں ملزمان نے خواجہ سرا مشی خان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ فرد، جو کہ سپلائی کے علاقے کا رہائشی ہے، کو مبینہ طور پر معمولی تکرار کے بعد نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزمان نے نہ صرف جسمانی تشدد کیا بلکہ ہراساں بھی کیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی کینٹ علی حمزہ بٹ نے فوری طور پر کارروائی کی ہدایت دی، جس پر ایس ایچ او تھانہ سکندر آباد بلال خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم تجمل ولد عارف سکنہ اپر ملکپورہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے کچھ شواہد بھی حاصل کیے ہیں، جنہیں تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 354 (خواتین کی عزت پر حملہ)، 337Ai اور 337F (جسمانی نقصان پہنچانے سے متعلق دفعات) اور 34 (مشترکہ ارادہ) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسران واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
ڈی پی او ہارون رشید خان نے اپنے بیان میں کہا کہ خواجہ سرا کمیونٹی سمیت معاشرے کے ہر فرد کا تحفظ پولیس کی ذمہ داری ہے، اور ایسے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ فرد کو ہر ممکن قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کے مطابق دیگر ملزمان کی شناخت بھی کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل بنیادوں پر حکمت عملی تیار کی جائے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک اور حساس ہونا ہوگا تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔

