عالمی

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان رابطہ، علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار

پاکستان اور ایران نے کشیدگی میں کمی، سفارتکاری اور مسلسل رابطے پر زور دیا

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور امن و استحکام کے لیے تحمل، مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ناگزیر قرار دیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ حالات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی مزید کشیدگی کے نتیجے میں انسانی، سیاسی اور معاشی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی، ریاستی خودمختاری کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کے تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت کسی بھی غلط فہمی یا تصادم سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اعتماد سازی کے اقدامات اور سفارتی مکالمہ ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ پیش رفت کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے اپنے پاکستانی ہم منصب کو آگاہ کیا اور خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر ایران کے خدشات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، تاہم کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت بھی جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات کو سراہتے ہوئے دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حساس حالات میں اسلام آباد اور تہران کے درمیان قریبی تعاون اور ہم آہنگی نہایت اہم ہے۔

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ بدامنی نہ صرف سیکیورٹی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ تجارت، معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی شدید متاثر کرتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔

گفتگو میں انسانی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تنازع میں شہری آبادی کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی ہر صورت پاسداری کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔

اس موقع پر بین الاقوامی اور علاقائی اداروں کے کردار پر بھی بات کی گئی۔ نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کے ذریعے سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ٹیلی فونک رابطے کے اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہیں گے اور علاقائی و دوطرفہ امور پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل سفارتی روابط خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ میں مثبت کردار ادا کریں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button