عالمی

امریکا ایران کی جنگ کے خاتمے کی تجویز سے ناخوش

واشنگٹن نے ایرانی منصوبے کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے مزید جامع اور قابلِ عمل حل پر زور دیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ کے خاتمے کی تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تجویز خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناکافی اور یکطرفہ نوعیت کی حامل ہے، جس میں تمام فریقین کے خدشات اور سیکیورٹی تقاضوں کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں ایک سفارتی منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد جاری تنازع کو کم کرنا اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم امریکی پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اس تجویز میں بعض اہم نکات، جیسے علاقائی اتحادیوں کی سلامتی، غیر ریاستی عناصر کا کردار، اور مستقبل میں کشیدگی کے سدباب کے لیے مؤثر ضمانتوں کا فقدان ہے۔ امریکی موقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کو دیرپا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریقین کی شمولیت اور شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے۔

واشنگٹن میں حکام نے واضح کیا کہ وہ سفارتی حل کے حامی ہیں، لیکن ایسا حل قابلِ عمل اور متوازن ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی تجویز میں بعض شقیں ایسی ہیں جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے مستقبل میں مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ اسی لیے امریکا نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ، پر زور دیا ہے کہ وہ ایک جامع مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہو۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی تجویز خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے اور اسے مثبت انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں، تاہم ان کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی بعض اوقات ایسے مطالبات پیش کرتے ہیں جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ماہرینِ امورِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات دراصل دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، بالخصوص مختلف پراکسی گروپس کی موجودگی، صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی امن تجویز کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف بڑی طاقتیں بلکہ علاقائی ممالک بھی ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوں۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک اپنے اختلافات کم کر کے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button