قومی

بھارت کو کسی بھی مس ایڈونچر کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، وزیر اطلاعات

پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر سوالات برقرار، عطا اللہ تارڑ کا بھارت سے وضاحت کا مطالبہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مس ایڈونچر کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا آج تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کئی حلقوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، لیکن بھارتی حکام کی جانب سے واضح اور جامع وضاحت سامنے نہیں آ سکی، جس سے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسے واقعات کو بنیاد بنا کر خطے میں کشیدگی بڑھانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے امن و استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے معاملات کا نوٹس لے اور حقائق کو سامنے لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کا داعی رہا ہے اور تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا حامی ہے۔ تاہم، اگر کسی جانب سے جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ الزامات اور پراپیگنڈا کے بجائے ٹھوس شواہد کے ساتھ بات کرے اور ایسے حساس معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ ان کے مطابق، غیر مصدقہ دعووں اور یکطرفہ بیانیے سے خطے میں بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے، جس کے منفی اثرات دونوں ممالک کے عوام پر پڑتے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع ناقابل تسخیر ہے اور کسی بھی بیرونی خطرے کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی حساس نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے خطے میں جہاں ایٹمی طاقتیں موجود ہیں، وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

آخر میں وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے، جبکہ ساتھ ہی انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button