ہزارہ

ہزارہ کے قابل پولیس افسر جمیل الرحمن کو بہترین کارکردگی پر اعزاز، آئی جی خیبرپختونخوا کا تعریفی سرٹیفکیٹ جاری

گلیات میں ایس پی آپریشن کے طور پر نمایاں خدمات، انتخابات کے دوران مثالی کارکردگی؛ عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین

ایبٹ آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہزارہ ڈویژن کے معروف، باصلاحیت اور فرض شناس پولیس افسر جمیل الرحمن کو محکمہ پولیس میں ان کی نمایاں اور شاندار خدمات کے اعتراف میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی جانب سے بہترین کارکردگی کا تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ محکمہ پولیس میں اپنی ذمہ داریوں کو انتہائی دیانتداری اور لگن کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔

جمیل الرحمن اس وقت گلیات کے خوبصورت مگر حساس علاقے میں بطور ایس پی آپریشن اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ گلیات کا علاقہ جہاں سیاحت کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے، وہیں امن و امان برقرار رکھنا ایک چیلنج بھی ہوتا ہے۔ ایسے میں جمیل الرحمن نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، بہترین حکمت عملی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے نہ صرف امن و امان کو برقرار رکھا بلکہ عوام کے ساتھ ایک مثبت اور دوستانہ تعلق بھی قائم کیا۔

خاص طور پر حالیہ انتخابات کے دوران ان کی کارکردگی کو انتہائی سراہا گیا۔ انتخابات جیسے حساس مرحلے میں جہاں معمولی سی غفلت بھی بڑے مسائل کو جنم دے سکتی ہے، وہاں جمیل الرحمن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر نہایت منظم انداز میں سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا۔ پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت، ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کرنا، اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹنا ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا واضح مظہر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے دوران گلیات اور ملحقہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش رہی اور عوام نے بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

جمیل الرحمن کی خدمات کا دائرہ صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو فروغ دیا، جس کے تحت عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ بڑھایا گیا۔ مختلف مقامات پر کھلی کچہریوں کا انعقاد، عوامی مسائل کو سننا اور ان کا فوری حل نکالنا ان کی ترجیحات میں شامل رہا۔ اس طرز عمل نے عوام کے دلوں میں پولیس کے لیے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی دیانتداری اور فرض شناسی ہے۔ وہ ہمیشہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی ان کی تعیناتی ہوئی، انہوں نے اپنے کام سے ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کے ساتھی افسران بھی ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت کے معترف ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جمیل الرحمن نہ صرف ایک بہترین پولیس افسر ہیں بلکہ ایک مخلص انسان بھی ہیں جو عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر شہری کو انصاف فراہم کیا جائے اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ یہی خصوصیات انہیں ایک عوام دوست افسر بناتی ہیں، جو آج کے دور میں ایک بڑی ضرورت ہے۔

آئی جی خیبرپختونخوا کی جانب سے دیا جانے والا یہ تعریفی سرٹیفکیٹ دراصل ان کی مسلسل محنت، لگن اور بہترین کارکردگی کا اعتراف ہے۔ ایسے اعزازات نہ صرف متعلقہ افسر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ دیگر افسران کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرتے ہیں۔ اس سے محکمہ پولیس میں ایک صحت مند مقابلے کا رجحان پیدا ہوتا ہے، جس کا مقصد بہتر سے بہتر کارکردگی دکھانا ہوتا ہے۔

سماجی و عوامی حلقوں نے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور محکمہ پولیس کی جانب سے ایسے افسران کی حوصلہ افزائی انتہائی ضروری ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح قابل اور محنتی افسران کو سراہا جاتا رہا تو اس سے نہ صرف پولیس کا مورال بلند ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔

مزید برآں، تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ پولیس جیسے حساس ادارے میں کام کرنے والے افسران کے لیے حوصلہ افزائی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ ادارہ براہِ راست عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام سے وابستہ ہے۔ جب ایک افسر کو اس کی کارکردگی پر سراہا جاتا ہے تو وہ مزید محنت اور جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، جس کا فائدہ پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔

جمیل الرحمن کی کامیابی اس بات کی بھی عکاس ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور کام کرنے کا جذبہ موجود ہو تو ہر مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک پولیس افسر نہ صرف قانون نافذ کرنے والا ہوتا ہے بلکہ وہ ایک رہنما، ایک محافظ اور ایک خدمت گزار بھی ہوتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جمیل الرحمن جیسے افسران کسی بھی ادارے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ پورے معاشرے کے لیے قابلِ فخر ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے اور دوسروں کے لیے ایک روشن مثال بنے رہیں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button