قومی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں بھی اضافہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ بس آپریٹرز اپنے اضافی اخراجات کو پورا کر سکیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اثر انداز ہوا ہے، جس کے باعث بس آپریٹرز نے مختلف شہروں کے درمیان چلنے والی بس سروسز کے کرایے بڑھا دیے ہیں۔ لاہور سے راولپنڈی کے لیے ایگزیکٹو کرایہ 2250 روپے سے بڑھ کر 2480 روپے ہو گیا ہے جبکہ ایگزیکٹو پلس کرایہ 3350 روپے سے بڑھ کر 3680 روپے ہو گیا ہے۔ اس اضافہ کی وجہ ٹرک اور بسوں کے فیول کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں، جو آپریٹرز پر بوجھ ڈال رہے تھے۔

لاہور سے کراچی کے لیے بس کرایہ بھی نمایاں بڑھ گیا ہے۔ پہلے یہ 10,200 روپے تھا، اب 3 ہزار روپے اضافے کے بعد 13200 روپے ہو گیا ہے۔ یہ اضافہ لمبے فاصلے کی بسوں میں فیول اور مینٹیننس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اسی طرح لاہور سے مری کا کرایہ بھی 3100 روپے سے بڑھ کر 3720 روپے کر دیا گیا ہے، جو سیاحتی موسم کے دوران مسافروں پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔

شہروں کے درمیان درمیانے فاصلے کی بس سروسز میں بھی کرایوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لاہور سے صادق آباد کے لیے کرایہ 700 روپے اضافے کے ساتھ 4200 روپے ہو گیا ہے جبکہ لاہور سے ملتان کا کرایہ 3150 روپے سے بڑھ کر 3750 روپے ہوگیا ہے۔ لاہور سے سیالکوٹ کے لیے کرایہ 1800 روپے سے بڑھ کر 2150 روپے ہو گیا ہے اور لاہور سے پاکپتن کا کرایہ 350 روپے اضافے کے ساتھ 1750 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور سے سرگودھا کا نیا کرایہ بھی 350 روپے اضافے کے بعد 2000 روپے کر دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ اضافہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ضروری تھا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بس آپریٹرز کے روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنا مشکل بنا رہا تھا۔ بس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کرایہ نہ بڑھایا گیا تو انہیں مسافروں کی سہولیات برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا۔

مسافر تنظیموں نے بھی اس اضافے پر اپنی رائے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے کرایے عام عوام کے لیے بوجھ کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر طلباء اور روزگار کے لیے سفر کرنے والے افراد پر۔ حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو رعایت دینے یا سبسڈی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ مسافر زیادہ متاثر نہ ہوں۔

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ مسافر پہلے سے اپنی ٹرپ کا پلان بنا لیں اور ایگزیکٹو یا پلس سروس کے لیے اپنے بجٹ کو ذہن میں رکھیں۔ خاص طور پر لمبے فاصلے کے سفر میں کرایوں میں اضافے سے اخراجات بڑھ جائیں گے، اس لیے پیشگی ٹکٹ بک کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اس اضافے کے بعد، ملک بھر میں بس سروسز میں فیول کے بڑھتے ہوئے نرخ اور مینٹیننس کے اخراجات مسافروں کو براہ راست متاثر کریں گے، اور یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں حکومت اور بس آپریٹرز کو عوام کے مفاد اور کاروباری ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔

رپورٹ: عبدالامین

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button