آپریشن غضب لِلحق میں بڑی پیش رفت: 331 افغان اہلکار ہلاک، متعدد فوجی تنصیبات تباہ
پاک فضائیہ کی مؤثر کارروائی، 104 چیک پوسٹیں تباہ، 22 پر کنٹرول حاصل، 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں ناکارہ

سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد شروع کیے گئے آپریشن “غضب لِلحق” میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نمایاں عسکری کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مربوط فضائی اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 331 افغان اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ کارروائیوں کا دائرہ کار سرحد سے ملحقہ حساس مقامات تک پھیلایا گیا جہاں دشمن کی عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں ایک اہم فوجی ہیڈکوارٹر بھی شامل تھا جو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد دشمن کی کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت کو مفلوج کرنا تھا تاکہ آئندہ کسی بھی ممکنہ دراندازی یا جارحیت کو روکا جا سکے۔ فضائی حملوں میں جدید ٹیکنالوجی اور درست نشانہ بازی کو یقینی بنایا گیا جس سے مطلوبہ اہداف کو مؤثر انداز میں نقصان پہنچایا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی جا چکی ہیں، جبکہ 22 اہم چوکیوں پر پاک فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ان مقامات کو اسٹریٹجک لحاظ سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سرحدی نقل و حرکت اور رسد کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔ ان چوکیوں پر کنٹرول حاصل ہونے سے نہ صرف دفاعی پوزیشن مضبوط ہوئی بلکہ ممکنہ خطرات کا بروقت تدارک بھی ممکن ہو گیا ہے۔
آپریشن کے دوران دشمن کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے بھاری ہتھیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 163 ٹینک اور دیگر مسلح گاڑیاں تباہ کی گئی ہیں، جس سے مخالف قوت کی زمینی کارروائیوں کی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے نقصانات کسی بھی فوج کے لیے طویل المدتی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔
سرحدی علاقوں میں صورتحال تاحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد ملکی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ ہے۔ عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومتی حلقوں کے مطابق سفارتی سطح پر بھی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور آئندہ دنوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ فی الحال آپریشن “غضب لِلحق” جاری ہے اور حکام کے مطابق زمینی حقائق کے مطابق آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔
رپورٹ: عبدالمومن


