عالمی

امریکہ کی افغان طالبان حکومت کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

واشنگٹن کا واضح مؤقف — پاکستان کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے

امریکہ نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے “حقِ دفاع” کی واضح حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کو اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات حقیقی ہیں اور عالمی برادری کو خطے میں استحکام کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ پاکستان کی سلامتی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ہر خودمختار ملک کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اور یہی اصول پاکستان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاک افغان سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سرحد پار سے شدت پسند عناصر کی کارروائیاں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، جس کے جواب میں پاکستان نے دفاعی اقدامات کیے ہیں۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف ہیں جو سرحدی علاقوں کو عدم استحکام کا شکار بنا رہے ہیں۔

امریکی سابق صدر Donald Trump نے بھی ایک بیان میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط رکھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کے کردار کو اہم سمجھتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے براہِ راست مداخلت سے گریز کا اشارہ دیا، تاہم پاکستان کے مؤقف کو قابلِ فہم قرار دیا۔

دوسری جانب Pakistan کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امن کی خواہاں ہے لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے بارہا Afghanistan کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

امریکی بیان کے بعد سفارتی حلقوں میں یہ تاثر ابھرا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کا خواہاں ہے، مگر ساتھ ہی وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو تسلیم بھی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کا یہ مؤقف خطے کی سفارتی فضا پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں بھی اسی نوعیت کا متوازن بیان دیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعات نیا معاملہ نہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں عالمی طاقتوں کے بیانات کشیدگی کم کرنے یا بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر سفارتی سطح پر بات چیت کا سلسلہ شروع ہو جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر کشیدگی میں اضافہ خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

امریکہ نے اپنے بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کریں۔ واشنگٹن کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن و استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی مفاد میں ہے۔

مجموعی طور پر امریکہ کی جانب سے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو موجودہ کشیدہ حالات میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت دے سکتی ہے۔ تاہم آئندہ دنوں میں حالات کا دارومدار دونوں ہمسایہ ممالک کے اقدامات اور سفارتی کوششوں پر ہوگا۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button