عالمی

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران پر پیشدستانہ حملہ شروع کر دیا — وزیر دفاع یسریئیل کیتز نے ملک بھر میں خصوصی ایمرجنسی نافذ کر دی۔

اسرائیل حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کا مقصد اس ملک کو لاحق خطرات کو ختم کرنا ہے، جبکہ خطے میں خوفزدہ صورتحال کے سبب پروازیں متاثر اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ اُس نے ایران پر ایک پیشدستانہ فوجی حملہ شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد ایران کو لاحق مبینہ خطرات کو ختم کرنا ہے، اور اسی بنیاد پر وزیر دفاع یسریئیل کیتز نے ملک بھر میں خصوصی اور فوری حالتِ ہنگامی نافذ کر دی ہے۔

اس اعلان کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملے کے خطرات کے پیشِ نظر یہ کارروائی کی گئی ہے، اور ‘گھر کے اندر دفاع’ کے قانون کے تحت ہر ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ ہر قسم کے ردعمل اور ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔

📌 حملے کا دعویٰ اور وجوہات

وزیر دفاع کے مطابق، حملے کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں اور فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ اسرائیل کو لاحق خطرات، خاص طور پر جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے کسی بھی ممکنہ حملے کو روک سکے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک ‘پیشدستانہ’ اقدام ہے — یعنی اسرائیل نے خود سے پہلے خطرہ ختم کرنے کے لیے حملہ شروع کیا۔

📌 صورتحال میں کشیدگی

فوری ذرائع نے اطلاع دی کہ تہران سمیت ایران میں مختلف علاقوں میں تین بڑے دھماکے بھی سنے گئے ہیں، اور آسمان میں فوجی طیاروں کے پرواز کی تصویریں بھی میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ اگرچہ یہ پہلا تازہ نشریاتی واقعہ ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پہلے سے بھی کشیدگی موجود تھی اور یہ صورتِ حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

گزشتہ برس جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان عسکری جھڑپوں کی ایک بڑی لہر بھی دیکھی گئی تھی، جس میں اسرائیل نے درجنوں ایرانی جوہری اور فوجی اہداف پر حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں ایران نے کئی سو بیلسٹک میزائل اور ڈرون کا جوابی استعمال کیا تھا، اور پھر دیگر طاقتیں بھی مختلف اتحادی کارروائیوں میں شامل ہوئیں۔

📌 انسانی نقصان اور حملوں کے اثرات

پچھلی جھڑپوں میں ایران میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں، جبکہ بہت سے افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ اسی طرح اسرائیل میں بھی شہری متاثر ہوئے تھے اور ہزاروں لوگوں کو پناہ گزین مراکز میں جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یہ پچھلی لڑائی 13 جون 2025 کو شروع ہوئی تھی، جب اسرائیل نے ایران کے کئی اہم اہداف — خاص طور پر جوہری سائٹس — پر اچانک فضائی حملہ کیا تھا۔ اس دوران ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور سائنس دان بھی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ایران نے بڑی تعداد میں میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل پر جوابی کارروائی کی تھی۔

📌 عالمی ردعمل اور اثرات

عالمی برادری میں متعدد ممالک نے اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کچھ ممالک نے ایران کے خلاف فوجی مداخلت نہ کرنے کی وارننگ دی اور سفارتی حل کی تجویز دی۔

📌 سفری اثرات

خطے کی موجودہ کشیدگی کے باعث بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی ردعمل دکھایا ہے، اور مثال کے طور پر کچھ ایئر لائنز نے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو علاقائی سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر نکالنے کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

📌 حالیہ معلومات کی تصدیق

اگرچہ اس وقت صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور باضابطہ طور پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، تاہم کوئی سرکاری بین الاقوامی ادارہ یا بڑی نیوز ایجنسی نے ابھی تک ایک مکمل جنگ کے آغاز کی تفصیلی تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن مختلف ذرائع پر اسرائیلی حکام کے بیانات، فوجی حرکات اور صورتحال کی شدت واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

خلاصہ:

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران پر پیشدستانہ حملہ شروع کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں خصوصی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور صورتحال خطے بھر میں کشیدہ ہے۔ عالمی اشتراکِ عمل اور ردعمل جاری ہے، جبکہ حملوں اور جوابی اقدامات کے انسانی اور علاقائی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button