ٹیکنالوجیسٹاک مارکیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 33 کروڑ ڈالر کا انخلا: تاریخی بلندی کے بعد اچانک 12 فیصد تنزلی نے سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا

190 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح سے انڈیکس 166 ہزار پوائنٹس پر آ گیا، علاقائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے خدشات نے مارکیٹ کو دباؤ میں ڈال دیا

حالیہ دنوں میں شدید مندی دیکھنے کو ملی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ منگل کے روز 100 انڈیکس میں مزید 1433 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس 166,258 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔ یہ کمی گزشتہ مہینے کے آخر سے جاری ہے اور مجموعی طور پر انڈیکس اپنی بلند ترین سطح 190,000 پوائنٹس سے تقریباً 12 فیصد نیچے آ چکا ہے۔

یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے کئی سوالات پیدا کر رہی ہے۔ کیا یہ صرف مارکیٹ کی "کرکشن” ہے یا کسی بڑے کریش کا آغاز؟ گزشتہ سال اسٹاک مارکیٹ نے سرمایہ کاروں کو 50 فیصد تک منافع دیا تھا، جس کے باعث ہزاروں نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ جولائی 2023 سے شروع ہونے والی بُل مارکیٹ نے تین سال سے بھی کم عرصے میں انڈیکس کو 50 ہزار پوائنٹس سے بڑھا کر 190 ہزار پوائنٹس تک پہنچا دیا، جو ایک تاریخی اضافہ تھا۔

تاہم، حالیہ دنوں میں اچانک ہونے والی 12 فیصد تنزلی نے مارکیٹ کے بڑے شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ فوجی فرٹیلائزر، یو بی ایل، اینگرو ہولڈنگز، میزان بینک، ہبکو، ایچ بی ایل، او جی ڈی سی، لکی سیمنٹ، ایم سی بی اور ماری انرجیز جیسی بڑی کمپنیاں اس مندی سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر فوجی فرٹیلائزر کی قدر میں صرف 30 دنوں میں 15 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز نے 23 فروری کی مارکیٹ سمری میں بتایا کہ انڈیکس کی بڑی کمپنیوں کی قدروں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسی روز عارف حبیب لمیٹڈ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ ممکن ہے رواں ہفتے کے دوران انڈیکس 170,000 پوائنٹس کی سطح پر برقرار رہے، مگر مارچ میں جاتے ہوئے دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

علاقائی کشیدگی بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے خلاف فضائی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ جغرافیائی تناؤ نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے اور یہ رجحان آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔

یہ تنزلی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ فرٹیلائزر، سیمنٹ، تیل و گیس، آئی ٹی اور دیگر شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ مجموعی طور پر مارکیٹ کے اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ لمحہ یاد دہانی ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ اوپر نہیں جاتی اور کرکشن ایک قدرتی عمل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ کی حالیہ مندی تشویش ناک ہے، لیکن یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ طویل مدتی سرمایہ کاری پر غور کریں۔ تاہم، قلیل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال خطرناک ہے کیونکہ اچانک انخلا اور غیر یقینی حالات ان کے منافع کو متاثر کر سکتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button