پاکستان کو آئندہ 10 سال میں 30 ملین نوکریاں پیدا کرنا ضروری: ورلڈ بینک
ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا کا نوجوانوں کی تعداد کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے فوری اقدامات پر زور

پاکستان کو اگلے دس سالوں میں تقریباً 30 ملین نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو اقتصادی فائدے میں تبدیل کیا جا سکے، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اقدام نہ کیا گیا تو نہ صرف معاشی ترقی متاثر ہوگی بلکہ سماجی عدم استحکام اور نوجوانوں کی بیرون ملک ہجرت کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔
اجے بانگا نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی دنیا کے سب سے بڑے “یوتھ بُلجز” میں سے ایک ہے، اور یہ ملک کے لیے ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، یہ موقع تبھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جب حکومت، نجی شعبہ اور تعلیمی ادارے مل کر نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے مربوط اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں فی الحال نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس سے نہ صرف مہارتوں کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ سماجی تناؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ بانگا نے زور دیا کہ ملک کو معاشی استحکام اور روزگار کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں تکنیکی تعلیم، مہارتوں کی تربیت، اور کاروباری مواقع پیدا کرنا شامل ہوں۔
ورلڈ بینک کے صدر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کے لیے نئی صنعتیں اور کاروبار قائم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس نوجوان قوتِ انسانی کو صحیح سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی میں تیزی لا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ چیلنج مؤثر انداز میں حل نہ کیا گیا تو نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے کی کوشش کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف انسانی سرمایہ کم ہوگا بلکہ بیرونی مالی امداد پر انحصار بڑھ جائے گا۔ بانگا نے پاکستانی حکومت اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے قابل عمل منصوبے تیار کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تعلیمی نصاب اور مارکیٹ کی ضروریات میں ہم آہنگی ہو۔
اجے بانگا کے مطابق، پاکستان کے لیے یہ وقت نہایت اہم ہے کیونکہ نوجوان آبادی کو اقتصادی فائدے میں تبدیل کرنے سے ملک کو معاشی ترقی، سماجی استحکام اور عالمی سطح پر مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مثال قائم کرنے کے لیے پاکستان کو آج سے ہی عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔



