پاکستان–ازبکستان اسٹریٹجک شراکت کے نئے دور میں داخل، 2 ارب ڈالر تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے تاریخی معاہدوں پر دستخط
صدر شوکت مرزیایوف کے دورۂ اسلام آباد کے دوران دفاع، تجارت، آئی ٹی، زراعت، تعلیم اور ثقافت سمیت 28 مفاہمتی یادداشتیں طے؛ این یو ایس ٹی کی جانب سے اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض، ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے منصوبہ تیز کرنے کا عزم

اسلام آباد میں پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے جب ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے دو روزہ تاریخی دورے کے دوران دونوں ممالک نے جامع نوعیت کے 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کا مقصد دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، ثقافت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں تعاون کو غیر معمولی سطح تک لے جانا ہے۔ قیادت نے آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم دو ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر اتفاق کیا جو معاشی تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ پروقار تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ خصوصی توجہ تجارت و سرمایہ کاری، معدنیات، توانائی، سیاحت، تعلیمی تبادلوں اور عوامی روابط کے فروغ پر مرکوز رہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی یہ تعلقات اب عملی معاشی شراکت میں ڈھل رہے ہیں۔

دورے کی سب سے اہم پیش رفت وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مرزیایوف کے درمیان دو ارب ڈالر تجارت کے پروٹوکول پر دستخط تھے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی سربراہی پاکستان کی جانب سے ہارون اختر کریں گے۔ یہ گروپ پانچ سالہ لائحہ عمل تیار کرے گا اور سہ ماہی بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ترجیحی تجارتی فہرست کی توسیع، کاروباری برادری کے روابط اور لاجسٹک سہولیات میں بہتری اس ہدف کے حصول کی بنیاد بنیں گی۔
دفاعی شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ازبک وزیر دفاع شخرات خلمخمدوف نے دفاعی تعاون کے ایکشن پلان پر دستخط کیے جس سے دونوں افواج کے درمیان تربیت، مشترکہ مشقوں اور تکنیکی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ماحولیاتی تبدیلی، موسمیاتی خطرات اور آفات سے نمٹنے کے لیے بھی مفاہمت طے پائی جس کا مقصد غیر روایتی سلامتی کے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔
منشیات اور نفسیاتی ادویات کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اہم معاہدے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور ازبک صدارتی مشیر عبدالعزیز کاملوف نے دستخط کیے۔ اس دستاویز کے تحت دونوں ممالک معلومات کے تبادلے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور مشترکہ آپریشنز کو فروغ دیں گے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی وزیر مملکت شزہ فاطمہ خواجہ اور ازبک وزیر لازیز قدرتوف کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پائی جس کا مقصد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اسٹارٹ اپس، مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی میں تعاون بڑھانا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور جدت کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
زرعی اور غذائی تحفظ کے میدان میں دونوں ممالک نے پودوں کے تحفظ، فائیٹو سینیٹری قواعد اور زرعی برآمدات کے فروغ سے متعلق پروٹوکول پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ اور ازبک وزارت زراعت کے درمیان تعاون سے کپاس، پھلوں اور اناج کی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔
سمندری تجارت اور بندرگاہی سہولیات کے حوالے سے کراچی، گوادر اور قاسم پورٹس کے ذریعے ترجیحی انتظامات پر اتفاق کیا گیا تاکہ وسطی ایشیا تک پاکستانی بندرگاہوں کی رسائی بڑھے۔ اس اقدام کو علاقائی تجارت کے لیے گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔
تعلیم اور ثقافت کے میدان میں بھی تاریخی پیش رفت ہوئی۔ پشاور یونیورسٹی اور تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز کے درمیان تعاون، اسٹریٹجک اسٹڈیز اداروں کے روابط اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے معاہدے طے پائے۔ شہروں کی سطح پر اسلام آباد–سمرقند اور پشاور–ترمذ کے درمیان جڑواں شہر شراکت داری قائم کی گئی جبکہ پاکستان اور ازبک چیمبرز آف کامرس کے درمیان مشترکہ بزنس کونسل بھی تشکیل دی گئی۔
دورے کے دوران ایک یادگار تقریب میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (این یو ایس ٹی) نے صدر شوکت مرزیایوف کو اعزازی ڈاکٹریٹ اور پروفیسر شپ کا خطاب عطا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ازبک صدر کی قیادت نے خطے میں امن، ترقی اور علاقائی تعاون کو نئی سمت دی ہے۔ صدر مرزیایوف نے اس اعزاز پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ازبکستان کی یونیورسٹی آف مائننگ میں این یو ایس ٹی چیئر قائم کی جائے گی اور دونوں ممالک کی جامعات سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور تحقیق کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کریں گی۔

مذاکرات میں ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے منصوبے کو علاقائی رابطوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس منصوبے کے لیے فنڈنگ، فزیبلٹی اور کاروباری ماڈل پر تیزی سے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ وسطی ایشیا کو پاکستانی سمندری راستوں سے منسلک کیا جا سکے۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کا قابل اعتماد اور برادر ملک ہے اور آج کے معاہدے تعلقات کو معاشی شراکت میں بدلنے کی عملی بنیاد ہیں۔ انہوں نے بابُر پارک کی تعمیر کے ازبک اعلان کا خیر مقدم کیا اور مسئلہ کشمیر پر ازبک حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ صدر مرزیایوف نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں ازبکستان کا قریبی ترین دوست ہے اور موجودہ معاہدے ٹھوس نتائج کی ضمانت بنیں گے۔
تقریب کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے تاشقند اسٹریٹ اور بابر پارک کی تختیوں کی نقاب کشائی کی جو دوستی کی علامت قرار دی گئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے معاشی مستقبل کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون وسطی و جنوبی ایشیا کو ایک مضبوط تجارتی اور ترقیاتی راہداری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو آنے والے برسوں میں عوامی خوشحالی اور استحکام کی نئی راہیں کھولے گا۔


