ٹنڈو الہیار تا حیدرآباد پیپلز بس سروس کا آغاز 22 اپریل سے
سندھ حکومت کا جدید ٹرانسپورٹ نظام کو مزید اضلاع تک پھیلانے کا اعلان، شہریوں کو سستی اور محفوظ سفری سہولت فراہم کرنے کا عزم

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے عوام کے لیے ایک اہم خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ٹنڈو الہیار اور حیدرآباد کے درمیان پیپلز بس سروس کا باقاعدہ آغاز 22 اپریل سے کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو جدید، آرام دہ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق پیپلز بس سروس کے پہلے مرحلے میں شکارپور اور سکھر کے درمیان سروس کامیابی سے شروع کی گئی تھی، جبکہ دوسرے مرحلے میں اب ٹنڈو الہیار اور حیدرآباد کے درمیان اس جدید ٹرانسپورٹ نظام کو متعارف کروایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہریوں کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی اور دونوں شہروں کے درمیان آمد و رفت پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور منظم ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ کا مقصد صرف بڑے شہروں تک محدود رہنا نہیں بلکہ مرحلہ وار صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی اس جدید بس سروس کو توسیع دینا ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام بھی معیاری سفری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ اس سلسلے میں جلد ہی مزید شہروں میں بھی پیپلز بس سروس شروع کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز بس سروس نہ صرف آرام دہ سفر فراہم کرے گی بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق سیکیورٹی اور وقار کو بھی یقینی بنائے گی۔ بسوں میں جدید سہولیات، بہتر نشستیں، اور محفوظ سفری ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ خواتین، بزرگوں اور طلبہ سمیت ہر طبقہ بلا خوف و خطر سفر کر سکے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ عوام کو معیاری، محفوظ اور سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، اور پیپلز بس سروس اسی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف شہریوں کے سفر میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا کیونکہ بہتر ٹرانسپورٹ نظام کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے منصوبے شہری انفراسٹرکچر کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عوامی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پیپلز بس سروس کا دائرہ کار بڑھانے سے سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی متوقع ہے، جو مستقبل میں دیگر صوبوں کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔



