قومی

ضلع خیبر کے قبائل کی سردیوں میں نقل مکانی ایک تاریخی حقیقت ہے، بے بنیاد بیان بازی سے گریز کیا جائے: عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ خیبر کے قبائل کی موسمی ہجرت صدیوں پر محیط روایت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث موسموں کے اوقات میں بھی نمایاں فرق آ چکا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کے قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں اور یہ کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اس معاملے پر بے بنیاد اور گمراہ کن بیان بازی میں مصروف ہیں۔

منگل کو یہاں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر کے آفریدی اور اکاخیل قبائل کی تاریخ دیگر قبائل سے مختلف ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ یہ قبائل سردیوں میں ہجرت کرتے ہیں اور گرمیوں کے آغاز پر واپس وادی تیراہ میں آ جاتے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے ایڈورڈ اے مرفی کی کتاب ’’دی خیبر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب 1899ء میں شائع ہوئی جس میں آفیشل گزیٹیئر کے حوالے سے 1880ء میں واضح طور پر درج ہے کہ مذکورہ قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے اور عالمی سطح پر شائع ہونے والی مستند کتب میں اس کا باقاعدہ ذکر موجود ہے، گزیٹیئر ہمیں اس خطے کی مکمل تاریخ فراہم کرتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں سردی کا آغاز اکتوبر میں ہو جاتا تھا، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب موسموں کے اوقات تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جنوری کے آخر میں برف باری ہو رہی ہے جبکہ ماضی میں نومبر میں ہی برف باری شروع ہو جاتی تھی۔ یہ تمام تبدیلیاں کلائمیٹ چینج کا نتیجہ ہیں اور موسموں میں مکمل سیزنل شفٹ آ چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق خیبر کے قبائل رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں، اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا حقائق کے منافی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button