مغرب، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ایما پر دینی مدارس کے خلاف گہری سازش، علماء کا ڈٹ کر مقابلے کا اعلان
دارالعلوم دیوبند البنات تیمرگرہ میں ختمِ بخاری شریف و ختمِ قرآن کی روح پرور تقریب، فارغ التحصیل طالبات سے دین کی خدمت کا عزم

مغربی طاقتوں، عالمی مالیاتی اداروں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ایما پر پاکستان میں دینی مدارس کی جڑیں کمزور کرنے کی منظم اور گہری سازشیں کی جا رہی ہیں۔ نئے دینی مدارس کی رجسٹریشن پر غیر اعلانیہ پابندیاں، پہلے سے قائم مدارس کے بینک اکاؤنٹس کو محدود کرنا اور مالیاتی دباؤ ڈالنا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد دینی تعلیم کے نظام کو مفلوج کرنا ہے۔ تاہم علماء کرام نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین شیخ القرآن والحدیث مفتی شیر محمد پشاوری، جمعیت علماء اسلام لوئر دیر کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حذیفہ، معروف دانشور ڈاکٹر محبوب رازق، مولانا عمران حقانی، قاری مبارک سید اور دارالعلوم دیوبند البنات تیمرگرہ کے مہتمم مولانا شمس العارفین نے دارالعلوم دیوبند البنات تیمرگرہ میں منعقدہ ختمِ بخاری شریف اور ختمِ قرآن کی فارغ التحصیلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علماء کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ دعوت و تبلیغ، دینی مدارس اور سیاست دینِ اسلام کے نفاذ اور اشاعت کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر دین کو انفرادی، اجتماعی اور ریاستی سطح پر نافذ کرنا ہے تو ان تمام شعبوں میں یکساں جدوجہد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارسِ دینیہ صدیوں سے اسلام کے مضبوط قلعے کا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہی ادارے قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کو نسل در نسل منتقل کر رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ دینی مدارس کو کمزور کرنے کی یہ سازش دراصل امتِ مسلمہ کو فکری، اخلاقی اور روحانی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دین پر حملہ ہوا، علماء اور مدارس نے سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ، قوانین اور عالمی اداروں کی سفارشات کے نام پر دینی تشخص کو مٹانے کی کوششیں کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گی۔
علماء نے فارغ التحصیل طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا کردار تاریخِ اسلام میں ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سمیت بے شمار عظیم خواتین نے علم و دین کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج دارالعلوم دیوبند البنات سے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دینی تعلیمات کو عام کریں، معاشرے کی اصلاح کریں اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت میں فعال کردار ادا کریں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے موجودہ دور کو فتنوں کا دور قرار دیا اور کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے فحاشی، بے حیائی اور عریانی کو عام کیا جا رہا ہے، جس سے مسلم معاشرہ بالخصوص خواتین اور بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مغربی این جی اوز مسلم خواتین کو بے پردہ، بے دین اور اخلاقی اقدار سے دور کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسے حالات میں دینی تعلیمات پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پرفتن دور میں ہمارے بچے کفر، الحاد اور فکری گمراہی کے نرغے میں جا رہے ہیں، جن سے بچاؤ صرف مضبوط دینی تعلیم، قرآن و سنت سے وابستگی اور صالح تربیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی تناظر میں دینی مدارس کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
مفتی شیر محمد پشاوری نے دارالعلوم دیوبند کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کو حضور نبی کریم ﷺ نے خواب میں دارالعلوم دیوبند کا نقشہ دکھایا تھا، جس کے مطابق اس عظیم ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ آج دارالعلوم دیوبند اور اس کے فیضان سے قائم ادارے پوری دنیا میں اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

تقریب کے اختتام پر علماء کرام نے ان والدین کو مبارکباد پیش کی جن کی بیٹیوں نے دینی علوم حاصل کیے اور قرآن مجید حفظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے والدین بلاشبہ خوش نصیب ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو دنیا و آخرت کی کامیابی کے راستے پر گامزن کیا۔ اس موقع پر فارغ التحصیل طالبات کو شیلڈز جبکہ ان کے والدین کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
تقریب میں علماء کرام، مقامی معززین، طالبات اور ان کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ پورا ماحول دینی جوش، روحانی کیفیت اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا مظہر تھا۔



