ہزارہ

کاکول گزارہ فاریسٹ میں کان کنی پر مکمل پابندی، دفعہ 144 نافذ

ایبٹ آباد میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کا سخت اقدام، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا اعلان

ضلعی انتظامیہ نے ماحولیاتی تحفظ، جنگلاتی وسائل کے تحفظ اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے کاکول گزارہ فاریسٹ کے علاقے میں کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) سرمد سلیم اکرم نے سیکشن 144 ضابطہ فوجداری کے تحت یہ حکم نامہ جاری کیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور دو ماہ تک مؤثر رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر، گلیز فاریسٹ ڈویژن ایبٹ آباد کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا، جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ کاکول گزارہ فاریسٹ میں غیر قانونی اور بے قابو کان کنی کی سرگرمیاں نہ صرف شدید ماحولیاتی تباہی کا باعث بن رہی ہیں بلکہ جنگلاتی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے، زمین کے دھنسنے (سبسائیڈنس) اور سرکاری امور میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بھی سنگین خدشات موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ عوامل علاقے میں امنِ عامہ کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے پیش نظر فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے تھے۔

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کاکول گزارہ فاریسٹ میں ہر قسم کی کان کنی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کنوں کی پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے نقل و حرکت پر بھی مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے اور علاقے کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو محفوظ بنایا جا سکے۔

حکم نامے کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ یہ حکم دو ماہ کے لیے نافذ رہے گا، تاہم اس دوران ہونے والی کسی بھی خلاف ورزی پر شروع کی جانے والی قانونی کارروائیاں، تحقیقات اور ممکنہ سزائیں حکم کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مؤثر رہیں گی۔

عوامی آگاہی کے لیے اس حکم نامے کو پریس، سرکاری گزٹ، ضلع کی متعلقہ عدالتوں، پولیس دفاتر اور دیگر اہم سرکاری مقامات پر آویزاں کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پابندی کو یقینی بنائیں، غیر قانونی کان کنی سے گریز کریں اور جنگلات و قدرتی وسائل کے تحفظ میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور سرسبز ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

 

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button