
ایبٹ آباد پولیس نے ایک اہم پیش رفت میں 12 اپریل کی شام مغرب کے وقت توحید آباد کے علاقے سے انسانی ہڈیوں پر مشتمل ایک مختصر ڈھانچہ برآمد کیا ہے، جس نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دریافت ایک مقامی مقام سے ہوئی جہاں عام طور پر لوگوں کی آمد و رفت محدود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ واقعہ مزید پراسراریت اختیار کر گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، جائے وقوعہ سے نہ صرف انسانی ہڈیوں کا ڈھانچہ ملا بلکہ اس کے ساتھ کپڑوں کے کچھ ٹکڑے اور ایک خاتون کی چپل بھی برآمد ہوئی۔ ان اشیاء کی موجودگی نے اس شبے کو تقویت دی ہے کہ یہ ڈھانچہ ممکنہ طور پر کسی عورت کا ہو سکتا ہے۔ تاہم، حتمی تصدیق کے لیے سائنسی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی یا قیاس آرائی سے بچا جا سکے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔ پولیس نے نہایت احتیاط کے ساتھ تمام دستیاب شواہد کو محفوظ بنایا تاکہ بعد میں ہونے والی تحقیقات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور ہر ممکن ثبوت کو تحویل میں لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے ہڈیوں کے ڈھانچے کو ضابطے کے مطابق قبضہ پولیس میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھی نمونے متعلقہ لیبارٹری کو روانہ کیے گئے ہیں تاکہ اس ڈھانچے کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کو اس طرح کے کیسز میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے لاپتہ افراد کے ریکارڈ سے موازنہ کر کے شناخت کی جا سکتی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایسے واقعات میں لاش کی شناخت سب سے بڑا چیلنج ہوتی ہے، خاص طور پر جب جسم مکمل حالت میں نہ ہو۔ اسی لیے پولیس جدید سائنسی طریقوں کا سہارا لے رہی ہے تاکہ جلد از جلد حقیقت سامنے آ سکے۔ اگر یہ ڈھانچہ واقعی کسی لاپتہ خاتون کا ہے تو اس سے نہ صرف اس کے اہل خانہ کو کچھ تسلی ملے گی بلکہ ممکنہ طور پر کسی جرم کی حقیقت بھی سامنے آ سکے گی۔
مزید برآں، پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس واقعے کا تعلق کسی پرانے لاپتہ افراد کے کیس سے تو نہیں۔ اس سلسلے میں مختلف تھانوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور گزشتہ مہینوں میں رپورٹ ہونے والی گمشدگیوں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ اگر کوئی مماثلت سامنے آتی ہے تو اس سے تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پولیس حکام نے عوام الناس سے بھی بھرپور تعاون کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اس واقعے کے حوالے سے کوئی معلومات موجود ہیں یا وہ کسی ایسی خاتون کے بارے میں جانتا ہے جو کافی عرصے سے لاپتہ ہو، تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کرے۔ اس ضمن میں خاص طور پر ایس پی حویلیاں اور ڈی ایس پی گلیات سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ معلومات کو بروقت حاصل کر کے تحقیقات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
پولیس نے یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے افراد کا نام مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد لوگوں کو بلا خوف و خطر آگے آنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اکثر ایسے کیسز میں عوامی تعاون نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ بعض اوقات چھوٹی سی اطلاع بھی بڑے انکشاف کا سبب بن سکتی ہے۔
مقامی آبادی میں اس واقعے کے بعد تشویش پائی جا رہی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں رکھا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ علاقے میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور گشت میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن یہ نتائج انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ یہی اس ڈھانچے کی اصل شناخت کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد ہی یہ طے کیا جا سکے گا کہ آیا یہ کسی جرم کا نتیجہ ہے یا کوئی اور معاملہ۔
آخر میں، پولیس نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں اور اس کیس میں مکمل تعاون فراہم کریں۔ اس طرح نہ صرف اس ڈھانچے کی شناخت ممکن ہو سکے گی بلکہ اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کے ذمہ داران کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے گا۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ معاشرے میں باہمی تعاون اور بروقت اطلاع دینا کس قدر اہم ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے پیچیدہ معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔



