قائد اعظم یونیورسٹی کے بغیر اسلام آباد ادھورا ہے، وفاقی دارالحکومت کو ’’یونیورسٹی ٹاؤن‘‘ بنائیں گے: محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ کا وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تقریب سے خطاب، یونیورسٹی اراضی پر قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی پاکستان کا ایک مایہ ناز تعلیمی ادارہ ہے جہاں ملک بھر کی ثقافتوں اور رنگوں کی جھلک نظر آتی ہے، اور اس ادارے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ بات قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد کو اگر ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھا جائے تو قائد اعظم یونیورسٹی کے بغیر اس کا تصور ادھورا ہے۔ یہ واحد جامعہ ہے جہاں پاکستان کے ہر کونے سے تعلق رکھنے والے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ حکومت کا مقصد ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نہ صرف معیاری تعلیم حاصل کریں بلکہ اپنے قیام کے دوران بہترین یادیں بھی ساتھ لے کر جائیں اور خود کو اجنبی محسوس نہ کریں۔
محسن نقوی نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ ’’اسلام آباد ویژن 2027‘‘ کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت کو ایک ’’یونیورسٹی ٹاؤن‘‘ کے طور پر متعارف کروایا جائے گا۔ اس وژن کے تحت طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن کی تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے قائد اعظم یونیورسٹی کی اراضی پر قبضوں کے حوالے سے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری زمین پر کسی قسم کا قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر بھر میں اس وقت ایک جامع آپریشن جاری ہے اور اگر کسی نے سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے تو وہ خود بخود خالی کر دے، بصورتِ دیگر ریاستی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے زمین خریدی گئی ہو، کرائے پر لی گئی ہو یا کسی اور صورت میں ہو، قانونی حیثیت کی جانچ ہر فرد کی ذمہ داری ہے، اور یونیورسٹی کی 1700 ایکڑ اراضی سمیت اسلام آباد کے ایک ایک کونے کو واگزار کرایا جائے گا۔
انہوں نے یونیورسٹی کے داخلی راستے اور آڈیٹوریم کی موجودہ حالت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کا داخلی راستہ اس عظیم ادارے کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ 10 سے 15 دن میں داخلی راستے کو شاہراہ دستور کی طرز پر جدید اور خوبصورت بنایا جائے، جبکہ آڈیٹوریم کی مکمل تزئین و آرائش کر کے اسے اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا لیپ ٹاپ پروگرام ان کے دل کے بہت قریب ہے۔ وزیراعظم خود اس تقریب میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن مصروفیات کے باعث نہ آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کو حکومت اپنا ادارہ سمجھتی ہے اور یونیورسٹی کے مسائل کے فوری حل کے لیے وزارتِ داخلہ میں ایک کوآرڈینیٹر بھی مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ اس جامعہ سے متعلق ہر مسئلے کو ٹاپ پرائیورٹی پر حل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ پاکستان بھر کے مستقبل کے پولیس افسران قائد اعظم یونیورسٹی کے کوالیفائیڈ طلبہ ہوں گے اور انہیں اسی ادارے سے ڈگریاں دی جائیں گی، جو پورے ملک کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جس طرح اسلام آباد کو بدلا جا رہا ہے، اسی طرح قائد اعظم یونیورسٹی کی اراضی، انفراسٹرکچر اور مجموعی ترقی کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔



