ہزارہ

پی ایچ اے ہاؤسنگ سکیم ملازئی: 16 سال بعد بھی اندھیروں، سہولتوں کی کمی اور عدم تحفظ کا شکار

 

پی ایچ اے ہاؤسنگ سکیم ملازئی کو وجود میں آئے 16 سال گزر چکے ہیں، تاہم یہ سکیم تاحال بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق سکیم مسائل کا گڑھ بن چکی ہے، لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سکیم کے اندر گیس پائپ لائن گھروں کے اندر سے گزاری گئی ہے، جس کے باعث سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) گھریلو گیس کنکشن فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے مکین کئی بار ڈی جی پی ایچ اے سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

گیس کے ساتھ ساتھ بجلی کا مسئلہ بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ سکیم میں بجلی کا نظام غیر معیاری ہے جس کے باعث لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج معمول بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ سکیم میں تعلیمی سہولتوں کا بھی شدید فقدان ہے، بچوں کے لیے کوئی سرکاری اسکول موجود نہیں، جس کی وجہ سے والدین کو بچوں کو دور دراز علاقوں میں بھیجنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

مکینوں نے سکیم میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق نہ تو مناسب سیکیورٹی گارڈز تعینات ہیں اور نہ ہی کوئی مؤثر نگرانی کا نظام موجود ہے، جس کی وجہ سے چوری اور دیگر وارداتوں کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کا مزید کہنا ہے کہ سکیم میں کئی ترقیاتی کام تاحال نامکمل ہیں، جبکہ پی ایچ اے انتظامیہ گزشتہ تین سالوں سے صرف یہ یقین دہانیاں کرا رہی ہے کہ ٹینڈر آج یا کل ہو جائے گا، لیکن اب تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

متاثرہ رہائشیوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت میں پی ایچ اے ہاؤسنگ سکیم ملازئی کا دورہ کریں اور گیس، بجلی، تعلیم، سیکیورٹی سمیت تمام مسائل کے فوری حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ مکینوں کو ایک باعزت اور محفوظ رہائشی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button