
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہاں نے کہا ہے کہ سیاحت کا فروغ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے جو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صوبے کے مثبت تشخص کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور مضبوط ثقافتی اقدار سے مالا مال صوبہ ہے جسے دنیا کے سامنے ایک پُرامن اور پرکشش سیاحتی مقام کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں پشاور میں بین الاقوامی سیاحتی کانفرنس اور نمائش کا انعقاد صوبے کی بے پناہ سیاحتی صلاحیت کو اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔
وہ منگل کے روز پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ بین الاقوامی سیاحتی کانفرنس و نمائش سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اس سے قبل ایسی سیاحتی کانفرنسیں صوبے سے باہر دیگر شہروں میں منعقد ہوتی رہی ہیں، تاہم عالمی سطح کی سیاحتی کانفرنس اور نمائش کا پشاور میں انعقاد ایک قابلِ تحسین اور خوش آئند اقدام ہے جو خیبرپختونخوا کے سیاحتی ورثے اور مواقع کو دنیا کے سامنے اجاگر کرے گا۔
سید فخر جہاں نے خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، منتظم ادارے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور دیگر معاون اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاحت کے فروغ کیلئے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر نے خیبرپختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے مختلف تاریخی، ثقافتی اور سیاحتی مقامات اور دستکاریوں پر مشتمل سٹالز کا دورہ کیا اور نمائش میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
کانفرنس میں پشاور میں تعینات امریکی قونصل جنرل، ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی، صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سابق صدر چیمبر، پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی سربراہ، سرکاری افسران، مختلف اداروں کے نمائندگان، میڈیا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
سید فخر جہاں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے سابقہ دور میں بطور صوبائی وزیر کھیل پشاور میں گھوڑا و مویشی شو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دراجات جیسے بڑے ثقافتی پروگرام منعقد کیے گئے جن میں ملک بھر سے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خیبرپختونخوا ایک پُرامن صوبہ ہے جو سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کیلئے مکمل طور پر موزوں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ملک بھر کے عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا آئیں، یہاں کی مہمان نوازی، قدرتی حسن اور دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوں اور صوبے کی بھرپور ثقافت کا مشاہدہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی طاقت کو اجاگر کرنے سے خیبرپختونخوا کا مثبت تشخص عالمی سطح پر مزید مضبوط ہوگا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال صوبائی حکومت نے صوبائی ترسیلی کمپنی قائم کی جس کے ذریعے صوبے میں پیدا ہونے والی بجلی صنعتوں کو مناسب نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا آغاز سوات سے کیا جائے گا جس سے سیاحتی صنعت کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت نے ٹورازم میزبان پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت بینک آف خیبر کے ذریعے 30 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ قرضے پانچ سال میں واپس کیے جائیں گے تاکہ مقامی آبادی سیاحتی مقامات پر دو کمروں پر مشتمل رہائشی سہولیات قائم کر سکے۔ اب تک 81 افراد اس اسکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔
سید فخر جہاں نے کہا کہ صوبے میں دو ایڈونچر ٹورازم اسکول قائم کیے گئے ہیں جہاں پیرا گلائیڈنگ اور دیگر مہماتی سرگرمیوں کی تربیت دی جائے گی۔ ملک بھر سے نوجوان پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے کیلئے خیبرپختونخوا آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ صوبائی حکومت نے مربوط سیاحتی زونز کا تصور متعارف کرایا ہے جن میں غنول، مانکیال، تھنڈیانی اور مڈکلاشت کے فزیبلٹی مطالعات مکمل ہو چکے ہیں جہاں جدید سہولیات فراہم کر کے منظم اور پائیدار سیاحت کو فروغ دیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور سیاحت، پن بجلی اور گیس جیسے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ حکومت تمام شعبوں کی ترقی کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور آنے والے برسوں میں خیبرپختونخوا پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔



