Businessعالمی

ہارون اختر خان سے چینی وفد کی ملاقات، دوطرفہ معاشی اور صنعتی تعاون پر اتفاق

برآمدات، پیداوار، کان کنی اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری حکومت کی ترجیح، معاون خصوصی صنعت و پیداوار

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے منگل کے روز چینی وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ معاشی اور صنعتی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں بالخصوص برآمدات، مینوفیکچرنگ، مائننگ، معدنیات اور قومی صنعتی پالیسیوں پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں منسٹر کونسلر یانگ گوانگ یوان، چائنا چیمبر آف کامرس پاکستان سے ویرا لو، وزیراعظم کے چین کیلئے کوآرڈینیٹر ظفرالدین اور سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے شرکت کی۔

گفتگو کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان کی برآمدات میں اضافے، مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے اور مؤثر پالیسیوں اور بروقت عملدرآمد کے ذریعے مائننگ، معدنیات اور قیمتی پتھروں کی وسیع صلاحیت سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان بتدریج صنعتی انقلاب کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی ترقی کی بحالی اور برآمدات کے فروغ کیلئے وزیراعظم کے وژن کے مطابق ایک جامع قومی صنعتی پالیسی تیار کی جا چکی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جیم اسٹونز اور معدنیات میں سرمایہ کاری حکومت کی کلیدی ترجیح ہے اور ان شعبوں سے اربوں ڈالر کی برآمدات ممکن ہیں۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات اور مراعات فراہم کرنے کی واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔

معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کے دوران طے پانے والے تمام معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر مؤثر عملدرآمد جاری ہے جبکہ نگرانی اور بروقت تکمیل کیلئے خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔

چینی وفد نے اعتراف کیا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور مختلف شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مؤثر پالیسی سازی اور عملدرآمد کے ذریعے پاکستان اپنی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت مینوفیکچرنگ سیکٹر کی مسابقت بڑھانے کیلئے یوٹیلیٹی لاگت کم کرنے پر دن رات کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیز پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو 6 ہزار ایکڑ اراضی کی پیشکش کی جا رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار پیداوار کی بحالی اور مینوفیکچرنگ بیس کو مضبوط بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ بہترین وقت ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی اور صنعتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button