Businessعالمی

پاک انڈونیشیا تجارتی تعلقات مضبوط اور ترقی پسند مرحلے میں داخل ہو گئے، وفاقی وزیر جام کمال خان

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق، مشترکہ اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کا عزم

وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی تعلقات نہ صرف مضبوط ہو چکے ہیں بلکہ اب یہ تعلقات ایک نئے اور ترقی پسند مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون میں وسعت آ رہی ہے جو خطے میں اقتصادی استحکام اور ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔

وفاقی وزیر جام کمال خان نے ان خیالات کا اظہار انڈونیشیا کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کو ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے پہلے سے موجود ہیں، جن کی بنیاد پر تجارتی تعلقات کو فروغ دینا نسبتاً آسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت تجارت کے فروغ، باہمی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے کردار کو مضبوط بنانے پر متفق ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان انڈونیشیا کو ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کا سامان، دواسازی، حلال فوڈ، سرجیکل آلات اور آئی ٹی مصنوعات برآمد کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ انڈونیشیا سے پام آئل، ربڑ، کوئلہ اور دیگر صنعتی خام مال کی درآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس باہمی تجارت سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت برآمدات کے فروغ اور نئی منڈیوں تک رسائی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انڈونیشیا جیسے بڑے اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کے ساتھ تجارتی روابط پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق دونوں ممالک کے کاروباری طبقے کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔

جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدوں اور ترجیحی تجارتی سہولیات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ کاروباری افراد کو زیادہ آسانیاں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پالیسی اصلاحات جاری ہیں۔

ملاقات کے دوران انڈونیشیا کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، خاص طور پر توانائی، انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں۔ وفد نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے خطے میں تجارت کے لیے ایک اہم مرکز بناتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک انڈونیشیا تعلقات کا یہ نیا مرحلہ دونوں اقوام کے لیے خوشحالی اور ترقی کا باعث بنے گا۔

آخر میں جام کمال خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ دیرپا، مضبوط اور فائدہ مند تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم نمایاں طور پر بڑھے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button