پی ٹی آئی کا دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ افسوسناک ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس
ریاست دشمن عناصر کے خلاف واضح مؤقف ناگزیر، دہشت گردی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، ایسے بیانات اور رویے قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر سیاست کرنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے، جس میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عام شہریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
دہشت گردی پر دوہرا معیار ناقابلِ قبول
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے بارہا ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن سے دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی دہشت گردوں کو ’’گمراہ افراد‘‘ کہا جاتا ہے اور کبھی ان کے لیے نرم لہجہ اختیار کیا جاتا ہے، جو نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہے بلکہ ریاستی بیانیے کو بھی کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہی ہوتے ہیں، ان کے لیے کسی قسم کی ہمدردی یا جواز پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
ریاستی مؤقف پر مکمل یکجہتی ضروری ہے
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام ایک صفحے پر ہیں، لیکن بعض سیاسی عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لیے قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
پی ٹی آئی کی سیاست انتشار پر مبنی ہے
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست ہمیشہ انتشار، نفرت اور تقسیم پر مبنی رہی ہے۔ کبھی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی قومی سلامتی کے حساس معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی پی ٹی آئی دہشت گردی جیسے نازک معاملے کو سیاست کی نذر کر رہی ہے، جو ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات
وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ موجودہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر کیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز کو جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
شہداء کی قربانیاں ہماری پہچان ہیں
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ان قربانیوں کے طفیل آج پاکستان ایک مضبوط ریاست کے طور پر کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، وہ دراصل ان شہداء کی قربانیوں سے بے وفائی کر رہے ہیں۔
میڈیا سے ذمہ دارانہ کردار کی اپیل
وفاقی وزیر اطلاعات نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی جیسے حساس معاملات پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے اور ریاستی بیانیے کو تقویت دے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی میں انتہائی اہم ہے۔
قوم متحد ہے، پاکستان محفوظ رہے گا
پریس کانفرنس کے اختتام پر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور کسی کو بھی ملک کے امن و استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے اور حکومت ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے گی۔



