تعلیم و صحتٹیکنالوجیعالمیقومی

برطانیہ میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع، رانا مشہود کی عالمی اداروں اور طلبہ سے ملاقاتیں

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا ای اسپورٹس، ڈیجیٹل ہنر، انسانی خدمات اور نوجوانوں کے عالمی کردار پر زور

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام (پی ایم وائی پی) رانا مشہود احمد خاں نے دورۂ برطانیہ کے دوران مختلف بین الاقوامی اداروں، جامعات اور نوجوانوں کے گروپس سے اہم ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد نوجوانوں کی ترقی، انسانی خدمات، ڈیجیٹل مہارتوں، ای اسپورٹس کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

رانا مشہود احمد خاں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف پاکستان کے سفیر ہیں بلکہ انسانی ہمدردی، فلاحی خدمات اور جدید شعبوں میں شراکت کے ذریعے ملک کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔

مسلم ہینڈز اوپن کچن کا دورہ، انسانی خدمت کی مثال

چیئرمین پی ایم وائی پی نے لندن کے علاقے ہاؤنسلو میں مسلم ہینڈز اوپن کچن کا دورہ کیا اور اسے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے انسانی خدمت کا قابلِ تقلید ماڈل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ منصوبہ بظاہر چھوٹا نظر آتا ہے، تاہم اس کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہیں۔ اوپن کچن نے نہ صرف یورپ اور برطانیہ میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا بلکہ پاکستانی قوم کے جذبۂ خدمت، ہمدردی اور انسان دوستی کی عملی تصویر بھی پیش کی۔

رانا مشہود احمد خاں نے مسلم ہینڈز کی مسلسل فلاحی کوششوں کی تعریف کی، جنہیں ملکی و بین الاقوامی اداروں اور برطانوی حکومت کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔

ای اسپورٹس کے فروغ کے لیے عالمی تعاون

چیئرمین پی ایم وائی پی نے برطانیہ ای اسپورٹس کے صدر چیسٹر کنگ سے بھی ملاقات کی، جس میں ای اسپورٹس کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پالیسی سازی، ڈیجیٹل ہنر کی تربیت، نصاب کی تیاری، ادارہ جاتی مضبوطی اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے جیسے امور شامل تھے۔

اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں ابھرتے ہوئے ای اسپورٹس ایکو سسٹم کو مستحکم بنانے کے لیے مسلسل پالیسی رہنمائی اور عالمی تجربات سے استفادہ ناگزیر ہے۔

برٹش کونسل کے ساتھ نصاب سازی پر مشاورت

رانا مشہود احمد خاں نے برٹش کونسل کے ساتھ نصاب کی تیاری پر بھی گفتگو کی، تاکہ پی ایم وائی پی کے منصوبوں میں ڈیجیٹل ہنر، گیم ڈویلپمنٹ اور ای اسپورٹس مینجمنٹ کو شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صنعت کے مطابق اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پاکستان ای اسپورٹس فیڈریشن کے قیام پر اتفاق

ملاقات کے دوران پاکستان ای اسپورٹس فیڈریشن کے قیام کے لیے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ ایک ایسا منظم اور پائیدار ادارہ قائم ہو جو بین الاقوامی بہترین حکمرانی کے اصولوں کے مطابق کام کرے۔
وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے ای اسپورٹس کے لیے ایکسپوژر وزٹس، مشترکہ ای اسپورٹس ٹورنامنٹس اور بین الاقوامی تقریبات کے انعقاد پر بھی گفتگو کی گئی، تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ جاتی مہارت اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ حاصل کر سکیں۔

نوجوان پاکستان کے سب سے بڑے سفیر ہیں: رانا مشہود

چیئرمین پی ایم وائی پی نے برطانیہ میں نوجوانوں کے مختلف گروپس، اوورسیز پاکستانیوں اور آکسفورڈ و کیمبرج یونیورسٹیوں کے طلبہ سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان کا سفیر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔

چار ایز فریم ورک کے تحت نوجوانوں کے منصوبے

رانا مشہود احمد خاں نے چار ایز فریم ورک (تعلیم، روزگار، مشغولیت، ماحولیات) کے تحت پی ایم وائی پی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت اب تک 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ یوتھ ایجوکیشن اینڈ ایمپلائمنٹ فاؤنڈیشن (ی ای ای ایف) اسکالرشپس اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور بلاک چین میں تربیتی پروگرامز جاری ہیں۔

نوجوانوں کے لیے 64 ارب روپے سے زائد قرضے

انہوں نے یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت خواتین، زرعی شعبے، ایس ایم ایز، بیرونِ ملک روزگار اور ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے 64.4 ارب روپے سے زائد کے قرضے 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد نوجوانوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔

پی ایم وائی پی ایک قومی تحریک ہے

چیئرمین پی ایم وائی پی نے کہا کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے، جو ملک اور بیرونِ ملک نوجوانوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت متحد کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی خدمات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای اسپورٹس کے اقدامات پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button