قومیہزارہ

خیبر پختونخوا میں بڑی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے، عوام نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، امیر مقام

13 سالہ دور میں صوبائی حکومت عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار نہ دے سکی، وفاقی وزیر کا بٹ خیلہ میں جلسے سے خطاب

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک بڑی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے اور عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے 13 سالہ دور میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کچھ بھی نہ دے سکی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو طوطہ کان، بٹ خیلہ مالاکنڈ میں نادرا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اس موقع پر طوطہ کان میں نادرا سینٹر کا افتتاح بھی کیا۔

عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست بعد میں، پاکستان سب سے پہلے ہے۔ چار جنوری کو طوطہ کان میں ہزاروں افراد کا جوش و خروش کے ساتھ اجتماع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے عوام کی جانب سے بھرپور استقبال اور محبت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ جذبات قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف، وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور پارٹی قیادت کی جانب سے قبول کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اجتماع ہم 2025 میں پاکستان کو ملنے والی کامیابیوں کے نام کرتے ہیں، چاہے وہ دفاعی میدان ہو، معاشی محاذ ہو یا سفارتی سطح، پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے بروقت فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان نے قومی وقار بحال کیا۔

انہوں نے نئے سال 2026 کی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سال پاکستان کے لیے مزید ترقی اور کامیابیوں کا باعث بنے گا۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں خاص طور پر نوجوانوں میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے جنہیں ماضی میں گمراہ کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں، تعلیمی ادارے مسائل کا شکار ہیں اور صوبائی وسائل عوامی فلاح کے بجائے منفی سیاست پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں دانش اسکول بن سکتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟

مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ مذاکرات کی حامی رہی ہے، تاہم بات چیت اسی صورت ممکن ہے جب سامنے والا فریق پاکستان کو تسلیم کرے، نو مئی کے واقعات پر معافی مانگے اور اداروں کے خلاف سیاست ترک کرے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مسلم لیگ (ن) کو ایک موقع دیا جائے اور یقین دلایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں ایک سال میں ہی واضح ترقی نظر آئے گی۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہونے والے رہنماؤں نے اپنے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button