ہزارہ

سندھ میں سیلاب کی آمد اور ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر فوکل پرسن لیفٹ بینک و صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ایٹ میرپور ماتھیلو کے دفتر میں اہم اجلاس منعقد ہوا

 

 

گھوٹکی:سندھ میں سیلاب کی آمد اور ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر فوکل پرسن لیفٹ بینک و صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ایٹ میرپور ماتھیلو کے دفتر میں اہم اجلاس منعقد ہوا. اجلاس میں ڈپٹی کمشنر منظور کنرانی، ضلع کونسل چیئرمین بنگل خان مہر، رینجرز حکام، ایس ایس پی انور کھیتران، چیئرمین میونسپل کمیٹی جام آصف رزاق خان دھاریجو سمیت اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ آبپاشی، زراعت، صحت، ریسکیو 1122 اور دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ڈی سی گھوٹکی نے صوبائی وزیر کو گڈو بیراج، قادرپور شینک بند اور ضلع بھر میں کئے گئے حفاظتی انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی لوگوں کی 27 کشتیاں دستیاب ہیں جبکہ محکمہ بحالی مزید دو کشتیاں فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ 53 ڈی واٹرنگ پمپ، 26 الیکٹرک موٹر اور 26 ڈیزل موٹر بھی موجود ہیں۔ ممکنہ طور پر کچے کی 10 یونین کونسلز اور سوا لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جن کے لیے 1026 اینٹی سنیک اور 1998 اینٹی ریبیز ویکسین، جبکہ مویشیوں کے لیے 3 لاکھ ویکسین اور 43 ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔ تحصیل سطح پر 5 کنٹرول روم قائم اور تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں. ڈائریکٹر سیڈا نے بتایا کہ رانونتی، دلوارو اور ماچھکو کے حفاظتی بندوں پر مرمتی کام مکمل کرایا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات فوری طور پر کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر سردار محمد بخش مہر نے اجلاس میں ہدایت کی کہ تمام افسران الرٹ رہیں اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی اولین ترجیح عوام اور مویشیوں کو محفوظ بنانا ہے۔کچے کے لوگ اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے، وزیراعلیٰ کی واضح ہدایت ہے کہ ایک بھی انسانی جان ضائع نہ ہو،” صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجند تک پہنچنے والا سیلابی ریلا 48 گھنٹوں میں گڈو پہنچ سکتا ہے۔ گڈو بیراج کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے، جبکہ 4 سے 5 ستمبر کے دوران پانی کی بڑی آمد متوقع ہے۔ اگرچہ حتمی اعداد و شمار دینا ممکن نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ 5 سے 7 لاکھ کیوسک پانی آ سکتا ہے تاہم ہماری تیاری سپر فلڈ کے لیے ہے۔اجلاس کے بعد صوبائی وزیر سردار محمد بخش خان مہر نے گھوٹکی کے قادرپور شینک بند، لوپ بند اور کچو بنڈی بند کا ہنگامی دورہ کیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر سیڈا سے صورتحال پر بریفنگ لی، کچے کے عوام کے مسائل سنے اور کشتی پر سوار ہو کر کچے کے علاقے کا معائنہ کیا۔سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ قادرپور شینک بند کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بند پر ہیوی مشینری موجود ہے اور ایک مقام پر اسٹون پچنگ کا کام جاری ہے،لوگوں کو چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں.صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ قادرپور شینک بند پر میڈیکل کیمپ اور مویشیوں کے لیے لائیو اسٹاک کیمپ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا تو پاک آرمی اور رینجرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس وقت گڈو بیراج پر پانی کی اوپری سطح 3 لاکھ 89 ہزار کیوسک اور نچلا بہاؤ 3 لاکھ 53 ہزار کیوسک ہے، جبکہ سکھر بیراج پر اوپری سطح 3 لاکھ 15 ہزار اور نچلا بہاؤ 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ حفاظتی بندوں کی نگرانی محکمہ آبپاشی کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقع پر چیئرمین ضلع کونسل بنگل خان مہر، ڈپٹی کمشنر منظور احمد کنرانی اور چیئرمین میونسپل کمیٹی گھوٹکی جام آصف رزاق دھاریجو بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ تھے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button